عجمان، 28 اکتوبر، 2025 (وام)--عجمان کے ولی عہد، ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین اور عجمان ایکسیلنس پروگرام کے سربراہ عزت مآب شیخ عمار بن حمید النعیمی نے 2025 کے گورنمنٹ پریکٹسز فورم کے تحت منعقدہ ایک خصوصی سیشن میں شرکت کی، جس کا خطاب متحدہ عرب امارات کے نیشنل میڈیا آفس اور میڈیا کونسل کے چیئرمین، عبداللہ بن محمد بن بُطی الحمید نے کیا۔
عبداللہ الحمید نے اپنے خطاب کے آغاز میں شیخ عمار بن حمید النعیمی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی سرپرستی قیادت کے اُس وژن کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد حکومتی کارکردگی میں عمدگی اور عوامی فلاح کے لیے جدید حل تلاش کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا حکومت کا ایک اسٹریٹجک شراکت دار ہے جو نہ صرف پالیسیوں اور کامیابیوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ان کے انسانی اثرات کو بھی عوام تک پہنچاتا ہے، جس سے اداروں پر عوام کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔
الحمید نے وضاحت کی کہ متحدہ عرب امارات نے ایک جدید قومی میڈیا نظام تشکیل دیا ہے جو درستگی، ساکھ اور اختراع کو انسانی ہمدردی کے جذبے کے ساتھ یکجا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ، ’’ہمارا میڈیا حکومت کو صرف فیصلے کرنے والے ادارے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کے طور پر پیش کرتا ہے جو اپنے ہر اقدام کے مرکز میں انسان کو رکھتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ موجودہ تیزی سے بدلتی دنیا میں حکومتی کامیابی کا پیمانہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ وہ خوبصورتی ہے جو لوگوں کی زندگیوں میں خیالات، تجربات اور اثرات کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق مؤثر حکمرانی سرکاری خدمت کو ایک انسانی تجربہ بناتی ہے، کارکردگی کو پیغام میں بدل دیتی ہے، اور رابطے کو عوام کے ساتھ ایک سچّے مکالمے میں تبدیل کر دیتی ہے۔
الحمید نے کہا کہ متحدہ عرب امارات آج اپنی کارکردگی، مواصلات اور متوازن قومی بیانیے کے ذریعے ’’متاثر کن حکومت‘‘ کی بہترین مثال ہے۔ ان کے بقول، حقیقی قیادت صرف انتظامی مہارت نہیں بلکہ ایک انسانی وابستگی ہے جو پالیسیوں کو مثبت اور قابلِ احساس نتائج میں تبدیل کرتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اختراع متحدہ عرب امارات کی ادارہ جاتی شناخت کا بنیادی جز ہے اور معیارِ زندگی کے فروغ کے لیے رہنمائی کا پیمانہ ہے۔ اختراعی طرزِ حکمرانی چیلنجوں کو قابلِ عمل حلوں میں بدلتی ہے اور شہریوں و رہائشیوں کے تجربات کو مسلسل بہتر بناتی ہے۔
الحمید نے کہا کہ میڈیا صرف حکومتی اقدامات کا عکاس نہیں بلکہ عوامی اعتماد اور امید کا ذریعہ ہے۔ مؤثر ادارہ جاتی میڈیا مستقبل کے رجحانات کا اندازہ لگاتا ہے، بہترین تجربات کو نمایاں کرتا ہے، اور ہر کامیاب منصوبے کو دوسروں کے لیے ایک مثالی ماڈل بناتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی میڈیا اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور اشتراکِ عمل کو فروغ دیتا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ کامیابی ہمیشہ اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ میڈیا صرف معلومات کی ترسیل نہیں کرتا بلکہ عوام کو مستقبل کی تشکیل میں شریک ہونے، جدت کو اپنانے، اور سیکھنے کے عمل کو جاری رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔
الحمید نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ حقیقی حکومتی کامیابی کا اندازہ صرف اعداد سے نہیں بلکہ اس مثبت اثر سے لگایا جاتا ہے جو لوگوں کی زندگیوں میں چھوڑا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصلی قیادت عوامی اطمینان میں جھلکتی ہے وہی خصوصیت جو متحدہ عرب امارات کے ہر نئے منصوبے اور اقدام میں نظر آتی ہے۔ ان کے بقول، اختراعی حکمرانی کا مقصد ہے کہ حکومت ایسے نتائج پیدا کرے جو دیکھے، محسوس کیے اور جئے جا سکیں۔