ابوظہبی، 3 نومبر، 2025 (وام)--ہنی ویل کے مشرقِ وسطیٰ، ترکیہ اور وسطی ایشیا کے صدر جارج بو میتری نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے خود کو عالمی سطح پر توانائی میں اختراع اور اسمارٹ حل کے مرکز کے طور پر منوایا ہے، اور ڈیجیٹل تبدیلی و پائیداری کے میدان میں ایک بین الاقوامی معیار قائم کیا ہے۔
انہوں نے یہ بات ابوظہبی انٹرنیشنل پٹرولیم ایگزیبیشن اینڈ کانفرنس (ایڈیپیک 2025) کے موقع پر امارات نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ امارات کا نقطۂ نظر سرکاری اور نجی شعبوں کے مضبوط اشتراک کی عکاسی کرتا ہے، جس کے ذریعے عالمی اثر رکھنے والی جدید ٹیکنالوجیز تیار کی جا رہی ہیں۔
بو میتری نے بتایا کہ ہنی ویل اس وژن کی حمایت ادنوک کے ساتھ روايس ایل این جی منصوبے جیسے بڑے پراجیکٹس کے ذریعے کر رہا ہے، جو سالانہ 9.6 ملین ٹن پیداوار کی صلاحیت رکھتا ہے اور صاف اور مؤثر توانائی کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ 2050 تک عالمی توانائی کی طلب میں 32 فیصد اور بجلی کی طلب میں 75 فیصد سے زائد اضافہ متوقع ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایسی ٹیکنالوجیز تیار کی جائیں جو ترقی اور کاربن اخراج میں توازن قائم رکھ سکیں۔ ان کے مطابق امارات یہ ہدف ایل این جی، ہائیڈروجن، شمسی توانائی اور پائیدار ہوابازی کے ایندھن جیسے ذرائع کے ذریعے حاصل کر رہا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ہنی ویل بروج کمپنی کے تعاون سے خطے کا پہلا خودکار کنٹرول روم تیار کر رہا ہے جو مصنوعی ذہانت پر مبنی خودمختار نظام سے چلایا جائے گا جبکہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے جو بغیر انسانی مداخلت کے کارکردگی اور استعداد میں اضافہ کرے گا۔
بو میتری نے مزید کہا کہ امارات اخراجات کے نظم و نسق اور مصنوعی ذہانت میں ٹیکنالوجیز تیار کرنے کا اہم مرکز بن چکا ہے، جو کارکردگی اور پیداواریت میں بہتری کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں مہارت کے عالمی فقدان پر قابو پانے میں مدد دے رہا ہے۔
انہوں نے اختتام پر کہا کہ خطے میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور صرف تیل و گیس کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کا حجم 130 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر جائے گا، جب کہ صاف توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جو عالمی توانائی کی منتقلی میں خطے کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتا ہے۔