شیخ منصور بن زاید النہیان نے ابوظہبی انٹرنیشنل پٹرولیم ایگزیبیشن اینڈ کانفرنس کا افتتاح کیا

ابوظہبی، 3 نومبر 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی سرپرستی میں نائب صدر، نائب وزیراعظم اور صدارتی دیوان کے چیئرمین عزت مآب شیخ منصور بن زاید النہیان نے پیر کے روز ابوظہبی انٹرنیشنل پٹرولیم ایگزیبیشن اینڈ کانفرنس (ایڈیپک) کے 41ویں ایڈیشن کا افتتاح کیا، جو دنیا کا سب سے بڑا توانائی کا ایونٹ ہے۔ یہ نمائش 3 سے 6 نومبر تک ابوظہبی نیشنل ایگزیبیشن سینٹر (ایڈنیک) میں منعقد ہو رہی ہے۔

شیخ منصور بن زاید نے کہا کہ ابوظہبی میں ایڈیپک کی میزبانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات توانائی کے مستقبل سے متعلق عالمی مکالمے کی قیادت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایونٹ اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لیے امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایڈیپک ایک عالمی پلیٹ فارم کے طور پر تحقیق، ٹیکنالوجی اور پائیدار توانائی کے حل کے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون، تبادلۂ خیال اور اختراع کو فروغ دیتا ہے۔

2025 کے ایڈیشن میں دنیا کی بڑی توانائی کمپنیوں کے 2,250 سے زائد نمائش کنندگان شریک ہیں، جو 17 ہالز اور چار خصوصی زونز میں اپنی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز پیش کر رہے ہیں۔ ان میں مصنوعی ذہانت، کاربن میں کمی، بحری و لاجسٹکس کے شعبے شامل ہیں، جبکہ ایک نیا پویلین کم کاربن کیمیکل سلوشنز پر مرکوز ہے۔
اس سال کا موضوع،’’ذہین توانائی برائے تیز رفتار ترقی‘‘ ہے جو ابوظہبی کی حیثیت کو عالمی توانائی مکالمے کے مرکز کے طور پر مزید مستحکم کرتا ہے۔

افتتاحی اجلاس میں وزیرِ صنعت و جدید ٹیکنالوجی اور ادنوک گروپ کے سی ای او ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے عالمی پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ یو اے ای کے حقیقت پسندانہ ماڈل کو اپنائیں، جو جدت، عملی پالیسیوں اور مضبوط شراکت داریوں پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد مستحکم اور قابلِ اعتماد قوانین پر منحصر ہے، اور یو اے ای ایک ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جہاں استحکام، اختراع اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے کشادگی ایک ساتھ موجود ہیں۔

ڈاکٹر الجابر نے بتایا کہ ادنوک نے اپنی سرگرمیوں میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کو ضم کرتے ہوئے نمایاں پیش رفت کی ہے، اور اس وقت 200 سے زائد اے آئی ایپلی کیشنز پیداوار کے عمل کو بہتر بنانے اور تکنیکی رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2040 تک عالمی توانائی کی طلب میں مسلسل اضافہ متوقع ہے، اس لیے دنیا کو بجلی کے گرڈز، ڈیٹا سینٹرز اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں ہر سال چار ٹریلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ ترقی اور ڈیجیٹل انقلاب کو جاری رکھا جا سکے۔

اپنی تقریر کے اختتام پر، ڈاکٹر سلطان الجابر نے یومِ پرچم کے موقع پر زور دیا کہ حقیقی ترقی کی بنیاد اتحاد، تعاون اور اجتماعی عزم پر ہے اور یہی وہ اقدار ہیں جو یو اے ای کی کامیابی اور عالمی توانائی کے مستقبل میں اس کے کردار کی بنیاد ہیں۔