شارجہ، 4 نومبر، 2025 (وام)--شارجہ کے حکمران اور سپریم کونسل کے رکن عزت مآب شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے کہا ہے کہ شارجہ کی حکومت اپنے شہریوں اور رہائشیوں کے آرام، سہولت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل شہری ترقیاتی منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔
شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے اعلان کیا کہ شارجہ سٹی میونسپلٹی کو شہر کے پرانے علاقوں کی جدید کاری کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
منصوبے میں سڑکوں کی مرمت، نکاسیٔ پانی کے نظام میں بہتری، درخت لگانے اور فیملی پارکس کے قیام جیسے اقدامات شامل ہیں۔
میونسپلٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ خالی یا ترک شدہ عمارتوں کی بحالی اور تزئین و آرائش کے ذریعے ان علاقوں کی خوبصورتی اور معیارِ زندگی بہتر بنایا جائے۔
شارجہ کے حکمران نے واضح کیا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی مکمل لاگت حکومت برداشت کرے گی، جس میں دکانوں کے سائن بورڈز کی تجدید بھی شامل ہے۔
میونسپلٹی اس وقت القدسیہ علاقے میں ترقیاتی کام کر رہی ہے، جس کے بعد الجزات علاقے پر کام شروع کیا جائے گا۔ اس سے قبل الغویئر اور یُرموق ضلع کے انڈیپینڈنس اسکوائر میں منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔
شارجہ ریڈیو و ٹیلی ویژن کے “دیریکٹ لائن” پروگرام میں ٹیلی فونک گفتگو کے دوران
شیخ ڈاکٹر سلطان نے بتایا کہ الغویئر میں ترقیاتی کاموں میں سڑکوں کی تعمیر، نکاسیٔ آب کے نظام کی بہتری اور خالی جائیدادوں کی تنظیم نو شامل تھی۔
اسی طرح یُرموق علاقے میں دکانوں کے نئے معیاری سائن بورڈز، امام نووی مسجد اور انڈیپینڈنس اسکوائر کی تزئین و آرائش کی گئی۔
حکمرانِ شارجہ نے کہا کہ حکومت سڑکوں کی بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن اور بارش کے پانی کے نکاس کے نظام پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ شہریوں کی املاک کو نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔
مزید یہ کہ القدسیہ اور الجزات میں خالی عمارتوں کی بحالی، سڑکوں کی پختگی، اور کمیونٹی پارکس کے قیام پر کام جاری ہے تاکہ شہریوں کو محفوظ اور آرام دہ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں میں درخت لگانے کی عادت اپنائیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے البدی محل کے نرسری مرکز سے درخت مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔
ہر سال 50 لاکھ پودے تیار کیے جاتے ہیں، جن میں بیچ میلو (Beach Mallow) نامی آرائشی پودے بھی شامل ہیں جو کلبا کی مساجد کے اطراف لگائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ درخت ماحول اور انسانی نفسیات دونوں کے لیے مفید ہیں کیونکہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے، آکسیجن خارج کرتے اور ذہنی سکون و خوشگواری پیدا کرتے ہیں۔