ابوظہبی، 6 نومبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان نے ابوظہبی میں منعقدہ ’’یو اے ای گورنمنٹ اینول میٹنگز 2025‘‘ کے دوران ’’نیشنل فیملی گروتھ ایجنڈا 2031‘‘ کے عنوان سے سیشن میں شرکت کی، جس میں وفاقی و مقامی اداروں کے اعلیٰ حکام اور رہنماؤں بھی شریک ہوئے۔
شیخ محمد بن زاید نے اس موقع پر ہدایت دی کہ سال 2026 کو ’’سالِ خاندان‘‘ (Year of the Family) قرار دیا جائے، تاکہ متحدہ عرب امارات کے شہریوں اور رہائشیوں میں مضبوط اور مربوط خاندانی نظام کی اہمیت اجاگر کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مستحکم خاندان ہی ایک مضبوط اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہیں، اور اسی کے ذریعے اتحاد، ہمدردی اور باہمی تعاون جیسی اماراتی اقدار کو آنے والی نسلوں تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔
ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے 20 سے زائد وفاقی و مقامی سرکاری اداروں پر مشتمل ایک قومی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔ ’’نیشنل فیملی گروتھ ایجنڈا‘‘ تین بنیادی پہلوؤں پر مشتمل ہے جن میں پالیسیز اور پروگرامز کا جائزہ، سماجی و رویہ جاتی عوامل کا مطالعہ، اور تولیدی صحت سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔
پہلا پہلو ان پالیسیوں اور منصوبوں کے جائزے پر مرکوز ہے جو خاندانی استحکام کو براہِ راست یا بالواسطہ متاثر کرتے ہیں۔ دوسرا پہلو ملک بھر میں اماراتی خاندانوں سے براہِ راست مکالمے کے ذریعے سماجی رویوں اور خاندانی نمو کے عوامل کو سمجھنے پر مبنی ہے۔ تیسرا پہلو تولیدی صحت سے متعلق موجودہ اقدامات، درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے طریقہ کار پر توجہ دیتا ہے۔
شیخ محمد بن زاید نے اپنے خطاب میں کہا کہ اماراتی خاندانوں کی مضبوطی ہی ملک کی شناخت، تسلسل اور سلامتی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندانوں کی ترقی ایک قومی ترجیح ہے، کیونکہ مضبوط خاندانی نظام ہی پائیدار خوشحالی کا ضامن ہے۔
انہوں نے متحدہ عرب امارات کے بانیٔ مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شیخ زاید ہمیشہ خاندان کو مضبوط معاشرے کی بنیاد سمجھتے تھے۔
امارات کے صدر نے وضاحت کی کہ وزارتِ خاندان کے قیام کا مقصد اس ادارے کے معاشرتی کردار کو مزید مستحکم کرنا ہے، جو خاندانی ترقی کے لیے قومی حکمتِ عملیاں تشکیل دیتی ہے، اقدار، قومی شناخت اور روایتی تربیت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
شیخ محمد بن زاید نے زور دیا کہ خاندانی ترقی کے مسائل صرف وزارتِ خاندان کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی قومی عزم ہے، جس میں حکومت، نجی شعبہ اور پوری کمیونٹی شامل ہے۔
انہوں نے 2015 میں شروع کیے گئے 'یو اے ای ایئر آف' اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ ہمیشہ مختلف قومی ترجیحات کے گرد لوگوں کو متحد کرتا رہا ہے۔ سال 2026 میں اس کا محور ’’خاندان‘‘ ہوگا تاکہ معاشرتی استحکام اور خوشحالی کے فروغ میں خاندان کے مرکزی کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔
شیخ محمد بن زاید نے اس بات پر زور دیا کہ صحت، تعلیم، رہائش، معیشت اور میڈیا سمیت تمام شعبوں کو خاندانی ترقی کے قومی اقدامات میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے ایک متحد قومی بیانیے کی ضرورت پر زور دیا جو خاندان کے کردار کو اجاگر کرے اور عوام میں اس کی اہمیت کے بارے میں شعور پیدا کرے۔
انہوں نے کہا کہ خاندانی ترقی ہی قوم کے حال اور مستقبل کو تشکیل دینے والی قوت ہے۔ شیخ محمد بن زاید نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ کوششوں، اجتماعی ذمہ داری اور ایک متحد مقصد کے ذریعے متحدہ عرب امارات اپنے اہداف حاصل کرے گا، جس سے معاشرہ مزید مضبوط اور قومی شناخت مستحکم ہوگی۔
اجلاس میں ولی عہدِ ابوظہبی عزت مآب شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان، ولی عہد و نائب حکمران شارجہ عزت مآب شیخ سلطان بن محمد بن سلطان القاسمی، اور ولی عہدِ عجمان عزت مآب شیخ عمار بن حمید النعیمی شریک ہوئے۔ اس موقع پر نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ داخلہ عزت مآب لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان اور امارات کے صدر کے مشیر شیخ محمد بن حمد بن طحنون النہیان بھی موجود تھے۔
علاوہ ازیں، نائب چیئرپرسن ایجوکیشن اینڈ ہیومن اینڈ کمیونٹی ڈیولپمنٹ کونسل محترمہ شیخہ مریم بنت محمد بن زاید النہیان، چیئرپرسن دبئی کلچر اینڈ آرٹس اتھارٹی محترمہ شیخہ لطیفہ بنت محمد بن راشد المکتوم، وزیرِ خاندان سناء بنت محمد سہیل، نیز دیگر شیوخ، وزراء، اعلیٰ حکام اور خاندانی امور کے ماہرین نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔