دبئی، 6 نومبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیرِ اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے 'یو اے ای گورنمنٹ اینول میٹنگز 2025' کے اختتامی اجلاس میں شرکت کی، جو 4 سے 6 نومبر تک ابوظہبی میں منعقد ہوئی۔ اس اجلاس میں وفاقی و مقامی اداروں کے 500 سے زائد سرکاری عہدیداران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران قومی ترجیحات پر غور کیا گیا اور ملک کی جامع ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے کئی نمایاں منصوبوں اور اقدامات کا آغاز کیا گیا۔ تین روزہ اجلاس میں 40 سے زائد اہم سیشنز کا انعقاد کیا گیا جن میں اقتصادی، سماجی اور ترقیاتی موضوعات شامل تھے۔
شیخ محمد بن راشد نے کہا کہ یہ اجلاس متحدہ عرب امارات کی وحدت، قیادت اور ایک مشترکہ وژن کی علامت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی رہنمائی میں امارات ترقی، انسانی بہبود اور عالمی مسابقت کی بنیادوں پر اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔
ان کے مطابق، عوام حکومت کی ترجیحات کے مرکز میں ہیں اور قومی ترقی کی کامیابی اجتماعی کوششوں، مکالمے اور شفافیت سے ممکن ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ، "ہمارے عزائم کی کوئی حد نہیں ہے، اور ہر کامیابی ہماری ذمہ داری ہے جسے ہم آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھتے ہیں۔"
شیخ محمد بن راشد نے مزید کہا کہ امارات اپنی کامیابیوں اور دیرپا نتائج کے ذریعے قیادت کرتا ہے، اور اس کی پالیسی ہمیشہ ترقی، استحکام اور مستقل اثرات پر مبنی رہتی ہے۔
اختتامی اجلاس کے دوران متعدد اہم منصوبوں کا آغاز کیا گیا، جن میں خاندانی اقدار کے فروغ کے لیے نیشنل فیملی گروتھ ایجنڈا 2031، وزارتِ ثقافت اور صدارتی امور کے نیشنل پروجیکٹس آفس کے اشتراک سے اماراتی قومی شناخت کی حکمتِ عملی، اور یونائیفائیڈ یو اے ای نمبر پلیٹ فارم شامل ہیں، جو مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر قومی سطح کے ڈیٹا کو مربوط کرے گا۔
اجلاس میں امارات کے نمایاں قومی ٹیموں کو بھی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں اقوامِ متحدہ میں یو اے ای مشن، ایکسپو 2025 اوساکا کے اماراتی پویلین کی ٹیم، اور شیخ زاید گرینڈ مسجد سینٹر شامل تھے۔ یو اے ای کلچرل اینڈ کری ایٹیویٹی ایوارڈ اور یو اے ای اے آئی ایوارڈ کے فاتحین کو بھی سراہا گیا۔
نائب صدر اور نائب وزیرِ اعظم شیخ منصور بن زاید النہیان نے وزیرِاعظم ترقیاتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی اور یو اے ای ایکسپرٹس ان آرٹیفیشل انٹیلیجنس پروگرام کا آغاز کیا، جس کا مقصد قومی ماہرین کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر قیادت کے لیے تیار کرنا ہے۔
اجلاس میں نیشنل ایمرجنسی، کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NCEMA) اور یو اے ای سائبر سیکیورٹی کونسل کی جانب سے ایک مشترکہ ہنگامی مشق بھی منعقد کی گئی، جس میں دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے بھی شرکت کی۔ اس مشق کا مقصد موسمی اور سائبر خطرات سے نمٹنے کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔
فجیرہ کے ولی عہد شیخ محمد بن حمد الشرقی کی قیادت میں ہونے والے ایک سیشن میں شہر کی ترقیاتی کاوشوں پر گفتگو کی گئی، جبکہ اکنامک ڈیٹا ریٹریٹ میں اقتصادی، مالیاتی اور ڈیجیٹل شعبوں کے رہنماؤں نے ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی پر تبادلہ خیال کیا۔
"پلس آف دی نیشن" پلیٹ فارم کے تحت خاندانی پالیسیوں پر مباحثے ہوئے، جبکہ 2026 میں یو اے ای کی میزبانی میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کے واٹر کانفرنس سے قبل واٹر ایکسیلیریشن پروگرام کا آغاز کیا گیا تاکہ پانی کے پائیدار استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
پہلی مرتبہ اجلاس کے دوران یو اے ای گورنمنٹ اینڈ بزنس ڈائیلاگ فار ایکشن کا انعقاد بھی کیا گیا، جس نے سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان اختراع اور اقتصادی ترجیحات کے اتحاد کو فروغ دیا۔
وزارتِ توانائی و انفراسٹرکچر نے 2030 تک مکمل کیے جانے والے 170 ارب درہم مالیت کے قومی ٹرانسپورٹ اور سڑک منصوبوں کا اعلان کیا، جبکہ اے آئی ریڈی نیس انڈیکس متعارف کرایا گیا تاکہ وفاقی اداروں کی مصنوعی ذہانت کے لیے تیاری کا اندازہ لگایا جا سکے۔
یو اے ای گورنمنٹ میڈیا آفس نے پہلی مرتبہ یو اے ای انٹرنیشنل پریس کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں 200 سے زائد ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی صحافیوں نے وزراء اور حکومتی عہدیداران سے تبادلہ خیال کیا۔
'یو اے ای گورنمنٹ اینول میٹنگز' کا آغاز 2017 میں عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی ہدایات پر کیا گیا تھا۔ یہ اجلاس ہر سال قومی سطح پر حکومتی کوششوں کے اتحاد، کارکردگی کے جائزے، اور مستقبل کی ترجیحات کے تعین کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر منعقد کیا جاتا ہے۔