یو اے ای امن، ترقی اور عالمی تعاون کا حامی ہے، ڈاکٹر طارق ال طائر کا انٹرپارلیمنٹری کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد، 12 نومبر، 2025 (وام) --وفاقی قومی کونسل (ایف این سی) کے پہلے نائب اسپیکر ڈاکٹر طارق حمید الطائر نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی قیادت، صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی رہنمائی میں، حکمت، توازن اور ترقی پر مبنی وژن کی پیروی کر رہی ہے جو خودمختاری اور ترقی، شناخت اور کھلے پن، اور قومی امنگوں کو علاقائی و عالمی کردار کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔

انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں سینیٹ آف پاکستان کی جانب سے منعقدہ انٹرپارلیمنٹری اسپیکرز کانفرنس میں یو اے ای کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے کہی۔ کانفرنس کا موضوع "امن، سلامتی اور ترقی" تھا، جس میں تقریباً 34 پارلیمان نے شرکت کی۔

ڈاکٹر الطائر نے زور دے کر کہا کہ دنیا کو ایسے نئے نظام کی ضرورت ہے جو پُرامن بقائے باہمی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور پائیدار ترقی کے یکساں مواقع کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ یو اے ای کے نزدیک امن ایک مکمل نظام ہے جس میں ایسی اقدار، پالیسیاں اور عملی اقدامات شامل ہیں جو انسانی وقار کا تحفظ کریں اور رہنے، کام کرنے اور جدت کے یکساں مواقع فراہم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ امن ہی سکیورٹی کی بنیاد اور ترقی کا ستون ہے، اور اس کی عدم موجودگی ہر چیز کو غیر مستحکم کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مشترکہ فرض ہے کہ ایسے قومی اور عالمی قوانین پر اتفاق کریں جو شہری اور ریاست کے تعلق کو مضبوط کریں، کیونکہ امن، سلامتی اور ترقی سب کا حق ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمان کی بین الاقوامی سطح پر تاریخی ذمہ داری ہے کہ وہ مکالمے اور رابطے کے ایسے فورمز کا کردار ادا کریں جو قوموں کے درمیان ہم آہنگی، فکری تبادلے اور پائیدار امن کو فروغ دیں۔

ڈاکٹر الطائر نے واضح کیا کہ عالمی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور مستقبل میں سیاسی، معاشی، سماجی اور ماحولیاتی استحکام انہی ممالک کے لیے ممکن ہوگا جو گلوبلائزیشن، ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت جیسے تیز رفتار تغیرات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کوئی بھی بحران، چاہے وہ موسمیاتی اثرات ہوں، جنگوں کے باعث سپلائی چین میں خلل ہو، یا توانائی و خوراک کی سلامتی کو درپیش خطرات ہوں، دنیا کے کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہتے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ اجتماعی کوششوں اور جامع حکمت عملی سے ہی ممکن ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فکری و مالی ذرائع کا خاتمہ ضروری ہے، ساتھ ہی رواداری، بقائے باہمی اور امن کے کلچر کو فروغ دینا بھی اتنا ہی اہم ہے، کیونکہ یہی ترقی اور استحکام کی بنیاد ہیں۔