ابوظہبی میں سائبر سکیورٹی اور میڈیا کے تعاون پر اہم ملاقات

ابوظہبی، 12 نومبر، 2025 (وام) --متحدہ عرب امارات کی سائبر سکیورٹی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر محمد حمد الکویتی نے آج نیشنل میڈیا آفس اور یو اے ای میڈیا کونسل کے چیئرمین عبداللہ بن محمد بن بُطی الحامد سے کونسل کے ہیڈکوارٹر میں ملاقات کی۔

ملاقات میں سائبر سکیورٹی کونسل، نیشنل میڈیا آفس اور میڈیا کونسل کے درمیان تعاون بڑھانے کے طریقوں پر گفتگو کی گئی، تاکہ ملک میں ایک محفوظ اور پائیدار ڈیجیٹل ماحول کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اس موقع پر نیشنل میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر جمال الکعبی بھی موجود تھے۔

یہ دورہ سرکاری اداروں اور سائبر سکیورٹی کونسل کے درمیان جاری مفید تعاون کا حصہ ہے، جو سوسائٹی کو ڈیجیٹل خطرات سے بچانے اور سائبر سکیورٹی کو ملک کی ڈیجیٹل ترقی کا اہم ستون بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈاکٹر الکویتی نے عبداللہ الحامد کے دورے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ کونسل کی ان کوششوں میں دلچسپی رکھتے ہیں جو ملک کے سائبر سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر رہی ہیں۔

ملاقات کے دوران ڈاکٹر الکویتی نے آگاہی مہمات اور تربیتی پروگراموں پر روشنی ڈالی، جن کا مقصد اداروں اور عام افراد میں سائبر سکیورٹی کے شعور کو بڑھانا اور ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول قائم کرنا ہے۔

عبداللہ الحامد کو کونسل کی اہم کامیابیوں اور ان منصوبوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی جن کے ذریعے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تحفظ اور سائبر حملوں کے مقابلے کی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

الحامد نے کہا کہ سائبر سکیورٹی میں یو اے ای کی تیز رفتار ترقی ملک کی قیادت کے دوراندیش وژن کی عکاس ہے، جو جدید، محفوظ اور علم پر مبنی ڈیجیٹل معاشرہ بنانے کو قومی ترجیح سمجھتی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر الکویتی اور کونسل کی نمایاں کوششوں کو بھی سراہا جو مصنوعی ذہانت اور محفوظ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے مستقبل کے مطابق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی میڈیا بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، عوام میں آگاہی بڑھا کر اور محفوظ ٹیکنالوجی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کر کے ڈیجیٹل ذمہ داری کو فروغ دیتا ہے۔ ان کے مطابق میڈیا اور سائبر سکیورٹی ایک دوسرے کے معاون ستون ہیں جو ایک باشعور اور مضبوط ڈیجیٹل معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔

اپنی گفتگو میں ڈاکٹر الکویتی نے تمام قومی اداروں کے باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کوششوں سے سائبر حملوں کے مقابلے کی تیاری بہتر ہوتی ہے اور ملک کے ڈیجیٹل اثاثے محفوظ رہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ جدید ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال بڑھ رہا ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں سمیت معاشرے کے مختلف طبقات کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور جعلی مواد، گمراہ کن خبریں اور ڈیپ فیک ویڈیوز کے ذریعے غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں۔

آخر میں، ڈاکٹر الکویتی اور عبداللہ الحامد نے سائبر سکیورٹی کونسل، نیشنل میڈیا آفس اور یو اے ای میڈیا کونسل کے درمیان مسلسل تعاون جاری رکھنے پر زور دیا، تاکہ ملک میں محفوظ اور ترقی یافتہ ڈیجیٹل ماحول کو مزید مضبوط کیا جا سکے اور جدید ڈیجیٹل خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ قومی اقدامات کو بڑھایا جا سکے۔