ابوظبی، 15 دسمبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی کابینہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں 19 بستیاں قائم کرنے اور انہیں قانونی حیثیت دینے کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے خطرناک اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جو خطے میں منصفانہ اور جامع امن کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں امارات نے اس اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام یکطرفہ اقدامات، جن کا مقصد فلسطینی سرزمین کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنا ہو، ناقابل قبول ہیں۔ وزارت نے واضح طور پر خبردار کیا کہ مغربی کنارے کے کسی بھی حصے کو ضم کرنے کی کوشش کو متحدہ عرب امارات مکمل طور پر مسترد کرتا ہے، کیونکہ یہ دو ریاستی حل کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امارات علاقائی اور عالمی سطح پر امن عمل کو بحال کرنے اور غیر قانونی اقدامات کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ وزارت نے فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ، امن و انصاف کے فروغ اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
متحدہ عرب امارات نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی و سیاسی ذمہ داریاں پوری کرے اور خطے کے تمام عوام کے لیے سلامتی و استحکام یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے۔