ڈی پی ورلڈ، پاکستان ریلوے اور این ایل سی کا پپری میں فریٹ کوریڈور اور لاجسٹکس پارک کی تعمیر کا آغاز

کراچی، 12 جنوری، 2026 (وام) --ڈی پی ورلڈ، پاکستان ریلوے اور نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن نے پپری میں 'ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور' اور 'ملٹی موڈل لاجسٹکس پارک' کی تعمیر کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ منصوبے کا سنگ بنیاد تقریب کے مقام پر رکھا گیا، جس کا مقصد کراچی کی بندرگاہوں اور ملک کی اندرونِ ملک منڈیوں کے درمیان کارگو کنیکٹیویٹی کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ کنٹینرز کی نقل و حرکت کو سڑک کے بجائے ریل کے ذریعے ممکن بنایا جائے گا۔

سنگ بنیاد کی تقریب میں پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی، ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان احمد بن سلیّم، اور این ایل سی، پاکستان ریلوے، بندرگاہوں اور ٹرمینلز کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ مشترکہ منصوبے کے تحت ایک مربوط ریل اور لاجسٹکس مرکز قائم کیا جائے گا، جو درآمدات اور برآمدات کے بہاؤ میں رفتار، بھروسے اور مجموعی کارکردگی کو بہتر بنائے گا۔

منصوبے کے پہلے مرحلے میں 52 کلومیٹر طویل ریلوے کوریڈور کی بحالی شامل ہے، جو کراچی پورٹ کو پپری کے مارشلنگ یارڈ سے منسلک کرے گا، جبکہ اس کے ساتھ ایک جدید ملٹی موڈل لاجسٹکس پارک بھی تعمیر کیا جائے گا۔ پپری کی یہ سہولت ریل، سڑک اور بندرگاہی آپریشنز کو ایک ہی موثر لاجسٹکس مرکز میں یکجا کرے گی، جہاں گودام، اسٹفنگ اور ڈی اسٹفنگ، کارگو کنسولیڈیشن اور ویلیو ایڈڈ لاجسٹکس خدمات فراہم کی جائیں گی۔ پہلے مرحلے کی تکمیل کا ہدف چار ماہ کے اندر مقرر کیا گیا ہے۔

منصوبہ فعال ہونے کے بعد کراچی کی بندرگاہوں پر بھیڑ میں نمایاں کمی، شہر کی سڑکوں سے بھاری کنٹینر ٹریفک کے دباؤ میں کمی، لاجسٹکس اخراجات اور ٹرانزٹ وقت میں کمی، کاربن اخراج میں کمی اور اہم سڑکوں کے انفراسٹرکچر کی عمر میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ کراچی پہنچنے والے کنٹینرز کو براہ راست ریل کے ذریعے پپری منتقل کیا جائے گا، جہاں سے کارگو کو ریل اور سڑک کے ذریعے پاکستان کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ چین، وسطی ایشیا اور دیگر علاقائی منڈیوں تک روانہ کیا جائے گا۔ اسی طرح برآمدی کارگو اسی راستے سے واپس کراچی کی بندرگاہوں تک پہنچے گا۔

اس موقع پر سلطان احمد بن سلیّم نے کہا کہ یہ منصوبہ ڈی پی ورلڈ کے عالمی معیار کے تجارتی انفراسٹرکچر اور مضبوط سپلائی چینز کی ترقی کے طویل مدتی عزم کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریل، سڑک اور بندرگاہی انفراسٹرکچر کو یکجا کر کے پپری میں قائم کیا جانے والا یہ منصوبہ تجارتی بہاؤ کی کارکردگی میں اضافہ کرے گا، پائیدار لاجسٹکس کو فروغ دے گا اور پاکستان کے علاقائی تجارتی گیٹ وے کے کردار کو مزید مضبوط بنائے گا۔

واضح رہے کہ ڈی پی ورلڈ، این ایل سی اور پاکستان ریلوے کے درمیان تعاون کو جنوری 2025 میں ٹرم شیٹ پر دستخط کے ذریعے باضابطہ شکل دی گئی تھی، جس کے بعد 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں کمرشل معاہدہ طے پایا۔ تعمیراتی کام کا آغاز خطے میں ڈی پی ورلڈ کی تجارتی انفراسٹرکچر میں مسلسل سرمایہ کاری کا تسلسل ہے۔

تعمیر کے آغاز کے ساتھ ہی یہ منصوبہ پاکستان کے لاجسٹکس نظام کی جدید کاری میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ سرحد پار منڈیوں تک کنیکٹیویٹی بہتر ہونے اور علاقائی تجارتی راہداریوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔