ابوظہبی، 20 جنوری، 2026 (وام) -- لوڈڈ آٹونومس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر راشد المنائی نے انکشاف کیا ہے کہ کمپنی کے بغیر پائلٹ 'ہیلی ایئرکرافٹ' کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر غیر معمولی مارکیٹ ڈیمانڈ سامنے آئی ہے، جس کے تحت متحدہ عرب امارات اور بیرونِ ملک سے موصول ہونے والے آرڈرز کی تعداد 200 یونٹس سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت اس جدید فضائی کارگو حل پر بڑھتے ہوئے اعتماد اور تیز رفتار لاجسٹکس کی بڑھتی ہوئی ضرورت کی عکاسی کرتی ہے۔
امارات نیوز ایجنسی وام سے ابوظہبی میں 'یو میکس 2026' کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے راشد المنائی نے بتایا کہ 'ہیلی ایئرکرافٹ' ان چند طیاروں میں شامل ہے جو مکمل طور پر ابوظہبی میں ڈیزائن، تیار اور اسمبل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا آغاز مقامی سطح پر کیا گیا تھا اور 'ہیلی ایئرکرافٹ' نے نومبر 2025 میں اپنی پہلی کامیاب پرواز مکمل کی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ 'ہیلی ایئرکرافٹ' ہیلی کاپٹر کی طرز پر برقی طاقت سے عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے بعد یہ روایتی انجن کے ذریعے بالکل عام طیارے کی طرح افقی پرواز میں منتقل ہو جاتا ہے۔
راشد المنائی کے مطابق یہ بغیر پائلٹ طیارہ 250 کلوگرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی پرواز کی حد 700 کلومیٹر تک ہے، جو اسے گوداموں کے درمیان سامان اور آلات کی براہِ راست منتقلی کے لیے ایک مؤثر اور مثالی حل بناتی ہے، جبکہ اس کے لیے پیچیدہ انفراسٹرکچر کی بھی ضرورت نہیں۔
پیداوار اور ترقیاتی مراحل سے متعلق انہوں نے بتایا کہ کمپنی اس وقت پرواز کے تجرباتی مرحلے میں ہے اور تمام نظاموں کی ڈیزائن ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دو طیاروں کی جانچ کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تین ماہ قبل صارفین کو طیارہ متعارف کرائے جانے کے بعد دنیا بھر سے 200 سے زائد آرڈرز موصول ہو چکے ہیں۔
ترسیل کے شیڈول پر روشنی ڈالتے ہوئے راشد المنائی نے کہا کہ شہری استعمال سے قبل طیارے کو ہوابازی کی مکمل سرٹیفیکیشن حاصل کرنا ہوگی، جس کے لیے آپریٹرز اور مقامی ریگولیٹری اتھارٹیز سے منظوری درکار ہو گی۔ ان کے مطابق ابتدائی پائلٹ آپریشنز کے آغاز کی توقع 2027 کے وسط میں ہے، جبکہ مکمل سرٹیفیکیشن اگلے سال متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی سے متوقع ہے۔
راشد المنائی نے ہیلی منصوبے کو مقامی مینوفیکچرنگ اور جدید بغیر پائلٹ ہوابازی ٹیکنالوجیز کے میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی خودکار فضائی نقل و حمل کی صلاحیتوں کو مزید وسعت دینے اور ابوظہبی کو خودکار نظاموں کی صنعت کا عالمی مرکز بنانے کے لیے پرعزم ہے۔