ورلڈ اکنامک فورم 2026: متحدہ عرب امارات کے وفد کی عالمی قیادت سے ملاقاتیں، پائیدار شراکت داریوں پر زور

ڈیووس، 22 جنوری، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے، جس کی قیادت دبئی کلچر اینڈ آرٹس اتھارٹی کی چیئرپرسن محترمہ شیخہ لطیفہ بنت محمد بن راشد المکتوم کر رہی تھیں، سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم 2026 میں شرکت کی۔

وفد نے ورلڈ اکنامک فورم کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر بورگے برینڈے اور بورڈ آف ٹرسٹیز کے عبوری شریک چیئرمین لیری فنک سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹوز کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن شیخ محمد بن راشد بن محمد بن راشد المکتوم، وزیر برائے کابینہ امور محمد بن عبداللہ القرقاوی، سمیت متعدد سینئر حکام اور فیصلہ ساز بھی شریک تھے۔

ملاقات کے دوران محترمہ شیخہ لطیفہ نے پائیدار ترقی کے فروغ اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی معاشی و تکنیکی حالات سے ہم آہنگ مضبوط معیشتوں کی تشکیل کے لیے مؤثر بین الاقوامی شراکت داریوں کو مستحکم کرنے اور عالمی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کے متحدہ عرب امارات کے عزم کا اعادہ کیا۔

بات چیت میں بڑے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ پائیدار ترقی، عالمی منڈیوں میں اعتماد کے فروغ، جدت طرازی کی حمایت، طویل مدتی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور معاشروں کو بااختیار بنانے کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

مذاکرات کے دوران ترقی سے متعلق متعدد اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں عالمی سرمایہ کاری کا مستقبل، پائیدار ترقی میں سرمائے کا کردار، عوامی و نجی شعبے کی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت، اور ایسے مضبوط اور جامع معاشی نظاموں کی تعمیر شامل تھی جو معاشی ترقی اور سماجی ذمہ داری کے درمیان توازن قائم رکھ سکیں۔

شرکاء نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجز کے تناظر میں مکالمے اور کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق یہ تعاون ترقیاتی مسائل سے نمٹنے، ترقی اور استحکام کے نئے مواقع تلاش کرنے اور کامیاب عالمی تجربات سے استفادہ کرنے کے لیے ایک بنیادی ستون ہے۔

ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان مہارتوں اور تجربات کا تبادلہ عوامی پالیسی کی ترقی، جدت طرازی کے فروغ، معیارِ زندگی میں بہتری اور جامع و پائیدار ترقی کی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔