ورلڈ گورنمنٹس سمٹ 2026 میں ڈیجیٹل مستقبل پر مکالمہ، فیصلہ سازی، معیارات اور شمولیت پر زور

ابوظہبی، 5 فروری، 2026 (وام) --ایسے وقت میں جب دنیا بڑھتی ہوئی تقسیم، جغرافیائی کشیدگی اور متصادم ڈیجیٹل وژنز کا سامنا کر رہی ہے، ورلڈ گورنمنٹس سمٹ 2026 میں یہ بنیادی سوال زیرِ بحث رہا کہ ڈیجیٹل دنیا کی تشکیل کون کرتا ہے اور اس کے فیصلے کس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ یہ موضوع سمٹ کے ایک نمایاں سیشن ’’ڈیجیٹل دنیا کا فیصلہ کون کرتا ہے؟‘‘ کے دوران توجہ کامرکز رہا، جس کی میزبانی سی این این کی اینکر اور منیجنگ ایڈیٹر بیکی اینڈرسن نے کی، جبکہ 'ای اینڈ' گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حاتم دویدار بطور مقرر شریک ہوئے۔

سیشن کے آغاز میں بیکی اینڈرسن نے عالمی منظرنامے کی عکاسی کرتے ہوئے اعتماد، تعاون اور مشترکہ اقدار کو درپیش چیلنجز کا ذکر کیا۔ اس تناظر میں حاتم دویدار نے کہا کہ 'ای اینڈ' خود کو محض ایک علاقائی ٹیلی کام آپریٹر نہیں بلکہ ایک عالمی ٹیکنالوجی اینبلر کے طور پر پیش کر رہا ہے، جس پر ایک قابلِ اعتماد اور جامع ڈیجیٹل مستقبل کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 'ای اینڈ' خطے میں ٹیکنالوجی کی قیادت کر رہا ہے اور ٹیلی کام کے شعبے میں مسلسل جدت لا رہا ہے، جبکہ کمپنی رواں برس اپنے آپریشنز کے پچاس سال مکمل کر رہی ہے۔ دویدار کے مطابق 'ای اینڈ' نے خطے میں سب سے پہلے 3G، 4G اور 5G متعارف کرائیں اور اب نئی 6G ٹیکنالوجی کی تیاری پر بھی کام جاری ہے، جس کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ معیارات کی تشکیل کی جا رہی ہے۔

6G کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عالمی معیارات 2028 تک متوقع ہیں، جبکہ ابتدائی نفاذ 2030 کے قریب شروع ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حال ہی میں متعارف کرائی گئی 5G-ایڈوانسڈ، جسے متحدہ عرب امارات میں 5.5G کہا جاتا ہے، پہلے ہی کم تاخیر، تیز رفتار اور ڈائریکٹ ٹو ڈیوائس سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی جیسے فوائد فراہم کر رہی ہے، جو مستقبل میں 6G کا حصہ ہوں گے۔

ڈیجیٹل دنیا میں فیصلہ سازی کے عمل پر بات کرتے ہوئے دویدار نے کہا کہ یہ ایک کثیر فریقی ماحول ہے، جہاں خود مختار حکومتیں ڈیٹا اور انفراسٹرکچر کے ضوابط طے کرتی ہیں، ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز اپنا کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی معیاری ادارے جیسے انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین اور جی ایس ایم ایسوسی ایشن عالمی معیارات کی تشکیل میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صارف اس پورے نظام کا آخری اور اہم عنصر ہے اور عالمی سطح پر افورڈیبلٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہمہ گیر معیارات ناگزیر ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیدا ہونے والی خوشحالی پر امید ظاہر کرتے ہوئے دویدار نے خبردار کیا کہ افرادی قوت کی منتقلی اور مہارتوں کی ازسرِ نو تشکیل ایک بڑا چیلنج ہوگی۔ انہوں نے مستقبل کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہا کہ ٹیلی کام آپریٹرز وسیع تر ڈیجیٹل ایکو سسٹمز میں تبدیل ہوں گے، مالی شمولیت کو فروغ دیں گے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے نالج اکانومی کی حمایت کریں گے۔

واضح رہے کہ ورلڈ گورنمنٹس سمٹ 2026 ’’مستقبل کی حکومتوں کی تشکیل‘‘ کے موضوع کے تحت تین روز تک جاری ہے، جس میں 60 سے زائد سربراہانِ مملکت و حکومت اور ان کے نائبین، 500 سے زائد وزراء، 150 سے زیادہ حکومتوں کے نمائندگان، 80 سے زائد بین الاقوامی و علاقائی تنظیمیں، 700 سے زائد چیف ایگزیکٹو افسران اور دنیا بھر سے 6,250 سے زائد شرکاء شریک ہیں۔