ابوظہبی، 5 فروری، 2026 (وام) --وزیر برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی کے مطابق متحدہ عرب امارات اور جمہوریہ آرمینیا کے درمیان سروسز ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ ایگریمنٹ پر دستخط دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی انضمام کو گہرا کرنے اور دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار کو وسعت دینے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
امارات نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک بیان میں ڈاکٹر الزیودی نے کہا کہ یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات کی سروسز برآمدات کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے اور باہمی سرمایہ کاری کے بہاؤ کو فروغ دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جو براہ راست دونوں ممالک کے اسٹریٹجک ترقیاتی ایجنڈوں کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ فریم ورک مالیاتی، مشاورتی، تعلیمی اور صحت کے شعبوں میں سرگرم کمپنیوں کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، جبکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور اعلیٰ اثرات کی حامل عوامی و نجی شراکت داریوں کے لیے بھی نئی راہیں ہموار کرتا ہے۔
معاہدے کے تحت جن اہم ترقیاتی شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں فِن ٹیک، پیشہ ورانہ مشاورت اور خصوصی مالیاتی خدمات شامل ہیں، جبکہ لاجسٹکس، جدید مینوفیکچرنگ، انفراسٹرکچر اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے نمایاں مواقع موجود ہیں۔
ڈاکٹر الزیودی نے آرمینیا کو ایک ابھرتا ہوا اہم تجارتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے بتایا کہ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل دوطرفہ تجارت 4.5 ارب امریکی ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات نے روس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آرمینیا میں سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط سرمایہ کاری روابط اور باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ طے پانے والے اکنامک پارٹنرشپ ایگریمنٹ اور آرمینیا کے ساتھ سروسز ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ ایگریمنٹ کے درمیان ہم آہنگی پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ ای پی اے ایک جامع بلاک سطح کا معاہدہ ہے، جس کا مقصد کسٹمز ڈیوٹیز کا خاتمہ، غیر ٹیرف رکاوٹوں میں کمی اور اشیاء کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانا ہے، جبکہ آرمینیا کے ساتھ معاہدہ خاص طور پر سروسز کی برآمدات اور سرمایہ کاری کے مواقع پر مرکوز ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ معاہدے صرف بڑی کثیر القومی کمپنیوں تک محدود نہیں بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کے لیے بھی اہم مواقع فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ای پی اے میں ایک خصوصی باب شامل ہے جس کا مقصد دونوں فریقین کے ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیے تجارتی رکاوٹوں کو آسان بنانا ہے، کیونکہ موجودہ عالمی اقتصادی چیلنجز کے تناظر میں تجارتی شراکت داریاں ترقی کو برقرار رکھنے اور نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ناگزیر ہو چکی ہیں۔
ڈاکٹر الزیودی نے وضاحت کی کہ اگرچہ ای پی اے میں وہ تمام شعبے شامل ہیں جو عام طور پر جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدوں میں ہوتے ہیں، تاہم اس میں سروسز اور سرمایہ کاری کی تجارت شامل نہیں ہے۔ یوریشین اکنامک یونین کے قانونی مینڈیٹ کے تحت سروسز اور سرمایہ کاری سے متعلق مذاکرات دو طرفہ ریاست بہ ریاست بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سروسز اور سرمایہ کاری کے معاہدے آرمینیا اور بیلاروس کے ساتھ پہلے ہی طے پا چکے ہیں، جبکہ دیگر فریقین کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، اور توقع ظاہر کی کہ یہ آئندہ مدت میں مکمل کر لیے جائیں گے۔