ابوظہبی، 9 فروری،2026 (وام) --متحدہ عرب امارات کی صنعتی برآمدات نے 2025 میں پہلی بار 262 ارب درہم کی ریکارڈ مالیت حاصل کی، جو 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہے اور 2020 میں وزارت صنعت و جدید ٹیکنالوجی کے قیام کے بعد سے دوگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔ یہ پیش رفت قومی مصنوعات کی مسابقت بڑھانے اور انہیں عالمی منڈیوں تک وسعت دینے کے لیے اپنائی گئی صنعتی پالیسیوں کی مؤثریت کی عکاسی کرتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق درمیانی اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کی صنعتوں کی برآمدات 92 ارب درہم تک پہنچ گئیں، جو سال بہ سال 42 فیصد اضافہ ہے اور 2031 کے لیے مقرر کردہ 90 ارب درہم کے ہدف کو چھ سال قبل ہی عبور کر لیا گیا۔ یہ پیش رفت جدید مینوفیکچرنگ اور جدید ٹیکنالوجیز کی جانب تیز رفتار منتقلی اور قومی صنعتوں کی اضافی قدر میں اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔
اس موقع پر نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہا کہ کسی بھی مسابقتی قومی معیشت کی بنیاد مضبوط صنعتی شعبہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی صنعتی برآمدات ایک سال میں 25 فیصد بڑھ کر 262 ارب درہم سے تجاوز کر گئی ہیں، جن میں 90 ارب درہم جدید ٹیکنالوجیز سے متعلق ہیں، جس سے ملک خطے میں صنعتی برآمدات کے حوالے سے صفِ اول میں آ گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات حکومتی قانون سازی اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت، جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مستحکم مالی و بینکاری نظام کی بدولت ایک مضبوط صنعتی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے، اور آئندہ برسوں میں صنعتی اعداد و شمار میں مزید بہتری متوقع ہے۔
وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی ڈاکٹر سلطان احمد الجابر کے مطابق یہ نتائج دانشمندانہ قیادت کے وژن اور وزارت کی پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد کا مظہر ہیں، جن کا مقصد صنعتی شعبے کی ترقی، مسابقت کے فروغ اور سرمایہ کاری دوست کاروباری ماحول کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کے قیام کے بعد سے صنعتی برآمدات میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ڈاکٹر الجابر کے مطابق قومی حکمت عملی برائے صنعت و جدید ٹیکنالوجی اور ’’میک اٹ ان دی ایمریٹس‘‘ اقدام صنعتی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے بنیادی محرکات ہیں، جن کے ذریعے جدید اور ترجیحی صنعتوں کی مسابقت بڑھائی جا رہی ہے، صنعتی و تکنیکی برآمدات کو وسعت دی جا رہی ہے، سپلائی چینز کو مربوط کیا جا رہا ہے اور صنعتی خود کفالت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں صنعتی تجارت کے اشاریے ملک کی تجارت اور صنعت کے عالمی مرکز کے طور پر حیثیت کو مزید مضبوط بنانے کی تصدیق کرتے ہیں، جس کی بنیاد ایک جدید قانونی و ضابطہ جاتی فریم ورک، سرمایہ کار دوست ماحول اور مستحکم معاشی نظام پر ہے۔
بیان کے مطابق ’’میک اٹ ان دی ایمریٹس‘‘ اقدام کے تحت اسٹریٹجک اور ترجیحی صنعتوں کو مقامی بنانے کی کوششوں سے اعلیٰ معیار کی صنعتی سرمایہ کاری کو فروغ ملا ہے، قومی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے اور معاشی و غذائی تحفظ کو تقویت ملی ہے۔
نیشنل اِن کنٹری ویلیو پروگرام نے بھی قومی معیشت میں اخراجات کی رہنمائی، سپلائی چینز میں مقامی مواد کے استعمال میں اضافہ اور صنعتی و خدماتی کمپنیوں کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے صنعتی شعبے کی مجموعی قومی پیداوار میں شراکت اور ملکی معیشت کی مسابقت مزید مضبوط ہوئی ہے۔