ابوظہبی، 12 فروری، 2026 (وام) --وزیرِ معیشت و سیاحت عبداللہ بن طوق المری نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی معیشت قیادت کے دور اندیش وژن، متحرک و لچکدار قانون سازی اور عالمی معیار کے مسابقتی کاروباری ماحول کی بدولت مضبوط اور پائیدار نمو کی راہ پر گامزن ہے۔
ابوظہبی میں منعقدہ ’’انوستوپیا پارٹنرز‘‘ ایونٹ کے موقع پر امارات نیوز ایجنسی (وام) کو دیے گئے بیان میں انہوں نے کہا کہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق رواں سال قومی معیشت کی شرح نمو 5 فیصد سے تجاوز کرے گی، جبکہ غیر تیل شعبوں میں ترقی کی رفتار 5.5 فیصد سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر تیل سرگرمیاں مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 78 فیصد حصہ تشکیل دیں گی، جو اقتصادی تنوع کی حکمتِ عملی کی کامیابی اور معیشت کی مضبوط بنیادوں کا ثبوت ہے۔
عبداللہ بن طوق کے مطابق حالیہ برسوں میں اقتصادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 40 سے زائد قوانین اور ضوابط میں ترامیم یا اپ ڈیٹس کی گئیں، جس سے کاروباری سرگرمیوں میں سہولت، سرمایہ کاری کے تحفظ اور مسابقتی ماحول کو مزید تقویت ملی۔ ان اقدامات نے ملک کو علاقائی اور عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے لیے ایک پُرکشش مرکز بنا دیا ہے۔
انہوں نے قومی اقتصادی رجسٹر کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد پانچ سال قبل تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار تھی جو اب بڑھ کر 14 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ نمایاں اضافہ عالمی کاروباری برادری کے اعتماد اور اماراتی مارکیٹ کی کشش کا عکاس ہے۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ 2031 تک رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 20 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔
وزیرِ معیشت نے مزید کہا کہ قیادت کی ہدایات کے تحت کاروبار میں آسانی، سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور بالخصوص کمرشل کمپنیز لا کے مؤثر نفاذ نے متحدہ عرب امارات کی حیثیت کو ایک عالمی کاروباری پلیٹ فارم کے طور پر مزید مستحکم کیا ہے۔ ان کے بقول متعدد فیملی بزنسز اور بین الاقوامی ادارے اپنے عالمی آپریشنز اور سرمایہ کاری کے انتظام کے لیے امارات کو مرکزی ہیڈکوارٹر کے طور پر اختیار کر رہے ہیں، جو ملک کے بڑھتے ہوئے عالمی معاشی کردار کی واضح علامت ہے۔