شارجہ، 24 فروری، 2026 (وام) --شارجہ دنیا کی سب سے بڑی سیاحت و سفر کی تجارتی نمائش "آئی ٹی بی برلن 2026" میں شرکت کرے گا، جو 3 سے 5 مارچ تک جرمنی میں منعقد ہوگی۔ اس مقصد کے لیے شارجہ کامرس اینڈ ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی قیادت میں ایک مشترکہ وفد تشکیل دیا گیا ہے، جس میں سرکاری و نجی شعبے کی 20 ادارے شامل ہیں۔
یہ شرکت شارجہ کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد سیاحت کے شعبے کو معاشی تنوع اور پائیدار ترقی کے ایک کلیدی ستون کے طور پر مزید مستحکم کرنا ہے۔ نمائش کے دوران شارجہ پویلین میں امارت کے جاری اور مستقبل کے سیاحتی و ترقیاتی منصوبوں کو پیش کیا جائے گا، جو معیشت میں سیاحت کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کریں گے۔
وفد شارجہ شہر، وسطی اور مشرقی علاقوں کی متنوع سیاحتی پیشکشوں کو بھی نمایاں کرے گا، جن میں ثقافتی ورثہ، ماحولیاتی سیاحت، قدرتی ذخائر، آثار قدیمہ کے مقامات، قلعے، محلات اور یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل سائٹس شامل ہیں۔ ساتھ ہی ساحلی پٹیوں اور واٹر فرنٹس کو بھی بطور نمایاں کشش پیش کیا جائے گا، جو امارت کے سیاحتی پورٹ فولیو میں تنوع کی عکاسی کرتے ہیں۔
ہوٹل اور مہمان نوازی کے شعبے میں دستیاب متنوع رہائشی سہولیات کو بھی اجاگر کیا جائے گا، جو شارجہ کو خاندانی اور ثقافتی سیاحت کے لیے ایک منفرد منزل کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
چیئرمین شارجہ کامرس اینڈ ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹی خالد جاسم المدفع کے مطابق آئی ٹی بی برلن میں شرکت بین الاقوامی منڈیوں، خصوصاً یورپ میں، شارجہ کی موجودگی کو مضبوط بنانے اور نئی شراکت داریوں کے قیام کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی منڈی سیاحت کا ایک اہم ذریعہ ہے، جبکہ جرمن سیاحوں کی جانب سے ثقافتی، ماحولیاتی اور مستند تجربات میں بڑھتی ہوئی دلچسپی شارجہ کی سیاحتی شناخت سے ہم آہنگ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق حالیہ برسوں میں شارجہ میں یورپی سیاحوں کی آمد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ 2025 میں ہوٹل مہمانوں میں یورپی سیاحوں کا حصہ 20 فیصد تک پہنچ گیا، جو 2024 میں 16 فیصد تھا۔ یہ پیش رفت امارت کی بین الاقوامی مارکیٹنگ حکمت عملی اور متنوع سیاحتی مصنوعات کی کامیابی کی عکاس سمجھی جا رہی ہے۔
آئی ٹی بی برلن 2026 میں شرکت کے ذریعے شارجہ کا مقصد عالمی سیاحتی منظرنامے میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنا، غیر ملکی سرمایہ کاری اور سیاحتی شراکت داریوں کو فروغ دینا اور یورپی منڈیوں، خصوصاً جرمنی، کے ساتھ طویل المدتی اقتصادی روابط کو وسعت دینا ہے۔