ابوظہبی، 25 فروری، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے جی42 کی ذیلی کمپنی کور42 کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے ایک خود مختار مالیاتی کلاؤڈ سروسز انفراسٹرکچر قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے دنیا کا پہلا مخصوص مالیاتی کلاؤڈ ایکو سسٹم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ملک کے مالیاتی شعبے کی ڈیجیٹل تبدیلی اور ڈیٹا خود مختاری کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
یہ نیا نظام، جسے خود مختار مالیاتی کلاؤڈ سروسز انفراسٹرکچر کہا جا رہا ہے، مرکزی بینک کے مالیاتی انفراسٹرکچر ٹرانسفارمیشن پروگرام کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد متحدہ عرب امارات کو محفوظ، جدید اور عالمی معیار کی مالیاتی خدمات کا نمایاں مرکز بنانا ہے۔
مرکزی اور الگ تھلگ ڈیجیٹل ڈھانچے پر مبنی یہ انفراسٹرکچر ڈیٹا کی قومی خود مختاری کو یقینی بنائے گا، آپریشنل لچک میں اضافہ کرے گا اور سائبر خطرات کے خلاف مضبوط تحفظ فراہم کرے گا۔ اس کے ذریعے ملک بھر کے مالیاتی اداروں کو اہم خدمات کی مسلسل فراہمی ممکن بنائی جائے گی، جو مالیاتی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔
نئے پلیٹ فارم میں مصنوعی ذہانت اور جدید تجزیاتی صلاحیتوں کو ضم کیا گیا ہے، جس کے ذریعے حقیقی وقت میں ڈیٹا کا تجزیہ، ذہین خودکاری اور بہتر رسک مینجمنٹ ممکن ہو سکے گی۔ حکام کے مطابق اس سے مالیاتی اداروں کی کارکردگی میں اضافہ اور صارفین کو فراہم کی جانے والی ڈیجیٹل خدمات کے معیار میں بہتری آئے گی۔
یہ نظام ایک جامع ملٹی کلاؤڈ ماحول بھی فراہم کرے گا، جس کے تحت لائسنس یافتہ مالیاتی ادارے ایک متحد فریم ورک میں اپنی خدمات کو مؤثر اور محفوظ انداز میں چلا سکیں گے۔ ماہرین کے نزدیک یہ اقدام ملک کے مالیاتی شعبے کو عالمی مسابقت میں مزید مستحکم کرے گا۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد بلا مہ کی نگرانی میں منعقد ہوئی۔ معاہدے پر مرکزی بینک کے اسسٹنٹ گورنر برائے بینکنگ آپریشنز و سپورٹ سروسز سیف حمید الظہری اور کور42 کے قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر طلال ایم الکائسی نے دستخط کیے۔ تقریب میں دونوں اداروں کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔
سیف حمید الظہری نے کہا کہ قومی خود مختار مالیاتی کلاؤڈ انفراسٹرکچر متحدہ عرب امارات کی مالیاتی مضبوطی اور تکنیکی قیادت کو مستحکم کرنے کی جانب ایک اسٹریٹجک قدم ہے۔ ان کے بقول یہ نظام محفوظ، قابل توسیع اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بنیاد فراہم کرے گا، جو ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ جدت کی رفتار کو تیز کرے گا۔
طلال الکائسی کے مطابق مالیاتی نظام اب مکمل طور پر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر انحصار کرتا ہے، اس لیے اس کا خود مختار اور قومی کنٹرول میں ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اقدام ریگولیٹری وضاحت، حقیقی وقت کی نگرانی اور قومی مالیاتی مضبوطی کو مزید تقویت دے گا، جبکہ اداروں کو جدید کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں بروئے کار لانے کا موقع فراہم کرے گا۔