بیروت، 25 فروری، 2026 (وام) --مغربی ایشیا کے لیے اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن (ایسکوا) نے بتایا ہے کہ عرب خطہ بڑھتے ہوئے مسائل کے باوجود بتدریج معاشی بحالی کی جانب گامزن ہے جہاں رواں سال معاشی شرح نمو 3.7 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ایسکوا کی جانب سے عرب خطے کے معاشی منظرنامے سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خطے میں افراط زر کی شرح 2027 تک 5.4 فیصد رہنے کی توقع ہے جو گزشتہ سال 8.2 فیصد تھی۔ لہٰذا، اجناس کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور رسد کا نظام معمول پر آ جائے گا۔ مجموعی برآمدات میں بھی اضافے کی پیشنگوئی کی گئی ہے جسے تیل کے علاوہ دیگر اشیا کی برآمدات میں توسیع سے تقویت ملے گی۔
یہ رپورٹ عالمی تناظر میں معاشی رجحانات کا جائزہ لیتی ہے جبکہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مالی دباؤ کے باعث غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ حالات خطے میں پائیدار اور جامع ترقی کی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ایسکوا کے قائم مقام سیکریٹری مراد وحبا نے کہا ہے کہ یہ بہتری خاص طور پر اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں جاری معاشی تنوع کی کوششوں، مالیاتی اصلاحات اور غیر ہائیڈروکاربن شعبوں میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔ تاہم خطہ اب بھی خارجی عدم توازن کے خطرات سے دوچار ہے جس میں عالمی تجارتی محصولات (ٹیرف) سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور علاقائی تجارتی بہاؤ میں رکاوٹیں قابل ذکر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، رواں سال ترقی کی رفتار ممالک کے مختلف گروہوں میں یکساں نہیں ہو گی۔ اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 4.2 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے جس کی بنیاد معاشی تنوع کی پالیسیوں پر ہے۔ 2025 میں یہ شرح 3.3 فیصد تھی۔
متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک میں شرح نمو 3.3 فیصد تک جانے کی پیش گوئی ہے تاہم قرضوں اور افراط زر کے مسائل برقرار رہیں گے۔ 2025 میں یہ شرح 2.8 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
کم آمدنی والے ممالک شدید مالی اور انسانی بحرانوں سے دوچار ہیں جہاں 2025 میں 0.9 فیصد کے معاشی سکڑاؤ کے بعد 2026 اور 2027 میں محدود بحالی کی توقع ہے۔
رپورٹ میں عرب ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی معیشتوں کو مزید متنوع بنائیں اور ہائیڈروکاربن پر انحصار کم کریں، انسانی سرمائے، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تبدیلی میں سرمایہ کاری بڑھائیں اور مالیاتی نظم و نسق اور محصولات کے مقامی نظام کو مضبوط کریں۔
اس میں سفارش کی گئی ہے کہ بالخصوص مسلح تنازعات سے متاثرہ ممالک میں امداد اور سرمایہ کاری کو قومی ترجیحات کے مطابق بہتر انداز میں ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے دور میں افرادی قوت کی منڈی کو مضبوط کرنا اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی لازم ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ، اگرچہ خطے میں معاشی بحالی کے آثار نمایاں ہیں لیکن پائیدار اور جامع ترقی کے لیے ٹھوس اصلاحات اور موثر پالیسی اقدامات ناگزیر ہوں گے۔
رپورٹ میں غزہ کے انسانی بحران پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جہاں تباہ کن جانی نقصان اور تقریباً 78 فیصد عمارتوں کی تباہی کے تناظر میں تعمیرنو کے اخراجات کا تخمینہ تقریباً 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔