ابوظہبی، 1 مارچ، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات نے اسلامی جمہوریہ ایران میں اپنے سفارت خانے کی بندش اور سفیر سمیت تمام سفارتی عملے کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایران کی جانب سے اماراتی سرزمین کو نشانہ بنانے والے میزائل حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق ان حملوں میں رہائشی علاقوں، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور خدماتی تنصیبات سمیت شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے شہریوں کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہوا۔ بیان میں ان کارروائیوں کو سنگین اشتعال انگیزی، قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون و اقوام متحدہ کے منشور کی صریح پامالی قرار دیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام متحدہ عرب امارات کے اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مضبوط اور غیر متزلزل موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ فیصلہ ایران کے مسلسل جارحانہ اور اشتعال انگیز طرزِ عمل کے تناظر میں کیا گیا ہے، جو کشیدگی میں کمی کی سفارتی کوششوں کو متاثر کر رہا ہے اور خطے کو ایک خطرناک مرحلے کی طرف لے جا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف علاقائی و بین الاقوامی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ توانائی کے تحفظ اور عالمی معیشت کے استحکام پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔