ابوظہبی، 2 مارچ، 2026 (وام) -- وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام نے آج 9 بیلسٹک میزائل، 6 کروز میزائل اور 148 ڈرون کامیابی کے ساتھ تباہ کیے ہیں، جس کے نتیجے میں 10 افراد معمولی زخمی ہوئے۔
وزارت کے مطابق ایرانی جارحیت کے آغاز سے اب تک ملک کی جانب داغے گئے مجموعی طور پر 174 بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا گیا، جن میں سے 161 کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا جبکہ 13 سمندر میں جا گرے۔ اسی عرصے کے دوران 689 ایرانی ڈرونز کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 645 کو مار گرایا گیا جبکہ 44 ملک کی حدود میں گرے۔ مزید برآں 8 کروز میزائلوں کا سراغ لگا کر انہیں بھی تباہ کیا گیا، تاہم ان واقعات کے نتیجے میں کچھ ضمنی مادی نقصان ہوا۔
ان واقعات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق ہوئے، جن کا تعلق پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش سے تھا، جبکہ 68 افراد معمولی زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں اماراتی، مصری، ایتھوپیائی، فلپائنی، پاکستانی، ایرانی، بھارتی، بنگلہ دیشی، سری لنکن، آذربائیجانی، یمنی، یوگنڈا کے شہری، اریٹریائی، لبنانی اور افغان باشندے شامل ہیں۔
وزارت نے واضح کیا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں سنائی دینے والی آوازیں دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے اور لڑاکا طیاروں کی جانب سے ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔ ان دفاعی اقدامات کے دوران بعض شہری املاک کو معمولی سے درمیانے درجے کا مادی نقصان بھی پہنچا ہے۔
وزارتِ دفاع نے اس عسکری حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی جارحیت اور قومی خودمختاری و بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ وزارت نے واضح کیا کہ ریاست اس کشیدگی کے جواب اور اپنی سرزمین، عوام اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق محفوظ رکھتی ہے، تاکہ خودمختاری، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور قومی مفادات و صلاحیتوں کا دفاع کیا جا سکے۔
وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ وہ اعلیٰ سطح کی تیاری کے ساتھ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ملک کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ شہریوں، مقیم افراد اور زائرین کی سلامتی اولین ترجیح ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزارت نے عوام پر زور دیا کہ وہ معلومات کے حصول کے لیے ریاستی سرکاری ذرائع پر انحصار کریں اور افواہوں یا غیر مصدقہ اطلاعات کی ترسیل سے گریز کریں۔