سعودی عرب کی انسانی حقوق کونسل میں جی سی سی ممالک اور اردن پر ایرانی حملوں کی مذمت

جنیوا، 2 مارچ 2026 (وام)--مملکت سعودی عرب نے عرب گروپ کی جانب سے ریاست قطر، مملکت بحرین، ریاست کویت، متحدہ عرب امارات، ہاشمی سلطنت اردن، مملکت سعودی عرب اور سلطنت عمان کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی ہے، اور انہیں بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی، اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی پامالی اور ریاستوں کی خود مختاری و علاقائی سالمیت پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔

یہ مذمت جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران ایجنڈا آئٹم دو کے تحت ہونے والی عام بحث میں عرب گروپ کی جانب سے پیش کیے گئے بیان میں سامنے آئی۔ یہ بیان اقوام متحدہ کے جنیوا دفتر میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبدالمحسن ماجد بن خثیلہ نے پیش کیا۔

سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مملکت نے زور دیا کہ ان حملوں نے بین الاقوامی انسانی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی سنگین خلاف ورزی کی ہے اور یہ علاقائی استحکام کے ساتھ ساتھ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب عرب ممالک کشیدگی کم کرنے، ثالثی کی کوششوں اور سیاسی حل و مکالمے کو ترجیح دینے کے لیے بھرپور سفارتی اقدامات کر رہے تھے، جس کے باعث یہ عسکری اضافہ بلاجواز ہے اور سلامتی و استحکام کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

مملکت سعودی عرب نے ہدف بننے والی عرب ریاستوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق حقِ دفاع کی توثیق کی، اور اپنی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کے حق کو تسلیم کیا ہے۔