ایرانی حملوں کے جواب میں حقِ دفاع محفوظ رکھتے ہیں، یو اے ای کا انسانی حقوق کونسل میں مؤقف

جنیوا، 3 مارچ، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی حملوں کے جواب میں بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے مکمل اور جائز حقِ دفاع کو محفوظ رکھتا ہے، تاکہ اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا تحفظ کر سکے۔

یہ بات اقوام متحدہ اور جنیوا میں دیگر بین الاقوامی تنظیموں میں متحدہ عرب امارات کی نائب مستقل نمائندہ شہد مطر نے کونسل کے اجلاس کے دوران اپنے بیان میں کہی۔

شہد مطر نے بتایا کہ 28 فروری سے متحدہ عرب امارات ایرانی حملوں کا نشانہ بنا ہے، جن میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے شہریوں اور شہری تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں تین بے گناہ شہری جاں بحق اور 58 افراد زخمی ہوئے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ کھلی جارحیت ریاستی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات اپنی سرزمین کو کسی بھی فریق کے درمیان حساب چکانے یا تنازعات کو وسعت دینے کے لیے استعمال کرنے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک اور دیگر عرب ریاستوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے برادر ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

شہد مطر نے علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے تحمل، مکالمے اور سفارتی حل کو اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ متحدہ عرب امارات میں 200 سے زائد قومیتوں کے افراد آباد ہیں، جن میں سے متعدد ممالک انسانی حقوق کونسل میں نمائندگی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ صرف متحدہ عرب امارات کے خلاف نہیں بلکہ بین الاقوامی اصولوں اور ضابطوں کے خلاف بھی ہے، اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔