یو اے ای فضائی دفاع کی بڑی کارروائی، تین بیلسٹک میزائل اور متعدد ڈرونز تباہ

ابوظہبی، 4 مارچ، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے آج 4 مارچ 2026 کو تین بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے روک لیا، جبکہ 129 ڈرونز کا پتہ لگایا گیا جن میں سے 121 کو تباہ کر دیا گیا اور آٹھ ریاست کی حدود میں گرے۔

وزارت کے مطابق ایرانی جارحیت کے آغاز سے اب تک متحدہ عرب امارات کی جانب داغے گئے 189 بیلسٹک میزائلوں کا پتہ لگایا گیا ہے، جن میں سے 175 کو تباہ کر دیا گیا، 13 سمندر میں گرے جبکہ ایک میزائل ملک کے اندر گرا۔ اسی طرح مجموعی طور پر 941 ایرانی ڈرونز کا بھی پتہ چلا، جن میں سے 876 کو روک لیا گیا جبکہ 65 ملک کے مختلف علاقوں میں گرے۔ اس کے علاوہ آٹھ کروز میزائلوں کا بھی پتہ لگایا گیا جنہیں تباہ کر دیا گیا۔

ان حملوں کے نتیجے میں بعض مقامات پر ضمنی نقصان ہوا اور پاکستانی، نیپالی اور بنگلہ دیشی شہریت رکھنے والے تین افراد جاں بحق ہوئے۔ وزارت نے بتایا کہ اماراتی، مصری، سوڈانی، ایتھوپیائی، فلپائنی، پاکستانی، ایرانی، بھارتی، بنگلہ دیشی، سری لنکن، آذربائیجانی، یمنی، یوگنڈا، اریٹریا، لبنانی اور افغانی شہریت رکھنے والے 78 افراد کو معمولی نوعیت کے زخم آئے۔

وزارت دفاع نے وضاحت کی کہ ملک کے مختلف حصوں میں سنائی دینے والی آوازیں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کو روکنے اور لڑاکا طیاروں کے ذریعے ڈرونز اور کروز میزائلوں کو تباہ کرنے کے نتیجے میں تھیں۔ ان کارروائیوں کے دوران بعض شہری تنصیبات کو معمولی سے درمیانے درجے کا مادی نقصان بھی پہنچا۔

وزارت نے اس فوجی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی جارحیت اور قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ وزارت کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کو اس کشیدگی کا جواب دینے اور اپنی سرزمین، عوام اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، تاکہ ملک کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام برقرار رہے اور قومی مفادات اور صلاحیتوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

وزارت دفاع نے اعادہ کیا کہ وہ ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور مستعد ہے اور ملک کی سلامتی و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

وزارت نے شہریوں، رہائشیوں اور زائرین کی سلامتی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے عوام پر زور دیا کہ وہ معلومات کے لیے ملک کے سرکاری ذرائع پر انحصار کریں اور افواہوں یا غیر مصدقہ اطلاعات کے پھیلاؤ سے گریز کریں۔