برسلز، 5 مارچ، 2026 (وام) --خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے جی سی سی ریاستوں کو نشانہ بنانے والے بلاجواز ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا ہے۔
برسلز میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقدہ غیر معمولی اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں وزراء نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا اور ایران سے فوری طور پر اپنے حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔ بیان میں اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ جی سی سی ریاستوں کو ایرانی مسلح حملوں کے خلاف انفرادی اور اجتماعی دفاع کا فطری حق حاصل ہے۔
وزراء نے اس بات کی بھی توثیق کی کہ جی سی سی ریاستوں کو اپنی سرزمین، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے، تاکہ بین الاقوامی امن و سلامتی کی بحالی میں کردار ادا کیا جا سکے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس ذمہ داری کو بھی اجاگر کیا کہ وہ عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
اجلاس میں جی سی سی کی جانب سے بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی، جو جی سی سی وزارتی کونسل کے موجودہ چیئرمین ہیں، نے قیادت کی جبکہ خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی اور رکن ممالک کے وزرائے خارجہ بھی شریک ہوئے۔ یورپی یونین کی جانب سے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کایا کالاس نے اجلاس کی قیادت کی جبکہ یورپی کمشنر برائے بحیرہ روم دوبراوکا شوئیکا اور یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں جی سی سی ریاستوں میں شہری بنیادی ڈھانچے، تیل کی تنصیبات، خدماتی مراکز اور رہائشی علاقوں کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزراء نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سمیت خطرناک عسکری ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کو محدود کرنے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مشترکہ سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔
مشترکہ بیان میں یورپی یونین اور جی سی سی کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا، جو 1988 کے تعاون معاہدے کے تحت قائم ہوئی اور اکتوبر 2024 میں برسلز میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں اس کی دوبارہ توثیق کی گئی تھی۔ وزراء نے شہریوں کے تحفظ، علاقائی استحکام کے فروغ اور بین الاقوامی قانون، انسانی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی مکمل پاسداری کے عزم کا اعادہ کیا۔
یورپی یونین نے موجودہ خطرات کے تناظر میں جی سی سی ریاستوں کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا اور سلامتی کی بحالی کے لیے مکالمے کے فروغ میں سلطنت عمان کے تعمیری کردار کو سراہا۔
اجلاس میں علاقائی فضائی حدود، سمندری راستوں اور بحری نقل و حرکت کی آزادی، بالخصوص آبنائے ہرمز اور باب المندب کے تحفظ، عالمی سپلائی چینز کی سلامتی اور توانائی کی عالمی منڈیوں کے استحکام کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ وزراء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خلیجی خطے کا امن و استحکام عالمی معاشی استحکام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے اور اس کا یورپی و عالمی سلامتی سے گہرا تعلق ہے۔
اس موقع پر یورپی یونین کی بحری دفاعی کارروائیوں "ایسپائیڈز" اور "اٹلانٹا" کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا، جو اہم آبی گزرگاہوں کے تحفظ اور عالمی سپلائی چین میں خلل کو کم کرنے کے لیے انجام دی جا رہی ہیں، اور توانائی و جوہری سلامتی کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر یورپی یونین نے جی سی سی ریاستوں کی جانب سے اپنی سرزمین پر یورپی شہریوں کو فراہم کی گئی سہولتوں اور معاونت پر شکریہ ادا کیا اور اپنے رکن ممالک کے ساتھ مل کر شہریوں کے محفوظ انخلا کو یقینی بنانے کے لیے جی سی سی ریاستوں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔