ابوظہبی، 17 مارچ، 2026 (وام)--امارتِ فجیرہ میں متعلقہ سکیورٹی حکام نے ایک عرب شہری کو گرفتار کیا ہے جو بغیر سرکاری اجازت کے ممنوعہ علاقوں میں داخل ہو کر غیر قانونی طور پر فلم بندی میں ملوث تھا، جو ملک کے نافذ قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
حکام کے مطابق ملزم نے خفیہ انداز میں حساس مقامات تک رسائی حاصل کی اور وہاں ریکارڈنگ کی، جس کے بعد نگرانی کے عمل کے ذریعے اس کی شناخت کر کے اسے حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ مذکورہ شخص ایک میڈیا ادارے سے وابستہ ہے، تاہم اس کے پاس ان مقامات میں داخلے یا فلم بندی کی کوئی باضابطہ اجازت موجود نہیں تھی۔
مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم نے ممنوعہ مقام تک پہنچنے کے لیے کرایے کی گاڑی استعمال کی، جو دبئی میں قائم ایک غیر ملکی میڈیا ادارے کے صحافی کی ملکیت تھی۔ حکام نے یہ بھی تصدیق کی کہ ریکارڈ کی گئی ویڈیوز سرکاری اجازت کے بغیر لندن میں واقع ایک خبر رساں ادارے کو الیکٹرانک ذرائع سے ارسال کی گئیں، جو خلیجی خطے میں ادارے کے علاقائی منیجر کی ہدایات پر عمل میں لایا گیا۔
ملزم کو ممنوعہ علاقوں میں غیر قانونی داخلے اور بغیر لائسنس فلم بندی کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے قوانین کے تحت بغیر اجازت ممنوعہ مقامات میں داخل ہونا یا وہاں کسی بھی نوعیت کی سرگرمی انجام دینا قابلِ تعزیر جرم ہے۔ اسی طرح متعلقہ حکام کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تصاویر لینا، نقشہ سازی کرنا یا کسی بھی قسم کی دستاویزات تیار کرنا بھی قانوناً ممنوع ہے۔
پبلک پراسیکیوشن نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ملکی قوانین و ضوابط کی مکمل پاسداری کریں اور بالخصوص حساس یا ممنوعہ مقامات پر کسی بھی قسم کی فلم بندی یا ریکارڈنگ سے قبل لازمی سرکاری اجازت حاصل کریں، تاکہ قومی سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔