ابوظہبی، 1 اپریل، 2026 (وام) --وزیر معیشت و سیاحت عبداللہ بن طوق المری نے گرینڈ ملز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مقامی آٹے کی پیداوار، تقسیم کے نظام اور اسٹریٹجک ذخائر کی سطح کا جائزہ لیا، جبکہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
دورے کے دوران بن طوق نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے قیادت کی ہدایات کے تحت عالمی بہترین طریقوں پر مبنی جدید خوراک کے تحفظ کا نظام قائم کیا ہے، جس سے خوراکی صنعت کی ترقی اور کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی آٹے کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اور گرینڈ ملز جیسی کمپنیاں نہ صرف مقامی مانگ پوری کر رہی ہیں بلکہ اماراتی خوراکی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں موجودگی کو بھی بڑھا رہی ہیں، جو خوراکی تحفظ اور سپلائی چینز کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
وزیر معیشت نے بتایا کہ حکومت اسٹریٹجک ذخائر اور سپلائی چینز کے مؤثر انتظام کے لیے پیشگی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جبکہ وزارت متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر روزانہ کی بنیاد پر اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور ذخائر کی نگرانی کرتی ہے۔
اگتیا گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر و سی ای او سلمان العامری نے کہا کہ گرینڈ ملز متحدہ عرب امارات کے خوراکی تحفظ کے نظام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور ایک اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر ملک کی خوراکی فراہمی کو مستحکم بنانے میں معاون ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی اپنی مضبوط آپریشنل کارکردگی اور مؤثر سپلائی چینز کے ذریعے آٹے اور جانوروں کے فیڈ کی مسلسل فراہمی کو یقینی بناتی ہے، جس سے بنیادی اشیاء کی دستیابی برقرار رہتی ہے۔
گرینڈ ملز کی پیداواری صلاحیت مقامی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہے، جبکہ مستقبل میں پیداوار بڑھانے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے اور خوراکی تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
دورے کے دوران وزیر معیشت نے کمپنی کے آپریشنل نظام، آٹے کی پیداوار، اناج کی سپلائی چین، جانوروں کے فیڈ کی تیاری اور کاروباری سرگرمیوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا، جنہیں مختلف برانڈز اور ملک گیر تقسیم نیٹ ورک کے ذریعے وسعت دی جا رہی ہے۔