آبنائے ہرمز میں خلل عالمی معیشت کے لیے خطرہ، ڈاکٹر سلطان الجابر

ابوظہبی، 1 اپریل، 2026 (وام) --وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی اور ادنوک کے منیجنگ ڈائریکٹر و گروپ سی ای او ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نیویگیشن میں رکاوٹ محض علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معاشی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف 33 کلومیٹر چوڑی اس اہم آبی گزرگاہ میں ایرانی مداخلتیں ناقابل قبول ہیں اور ان کے اثرات دنیا بھر کی معیشت پر پڑ رہے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر الجابر کے مطابق اس صورتحال کے اثرات سب سے پہلے ایشیائی معیشتوں میں ظاہر ہوئے، جہاں کام کے اوقات میں کمی، ایندھن کی بچت، پروازوں میں کمی اور توانائی کے استعمال پر پابندیاں دیکھنے میں آئیں، جبکہ اب یہ اثرات یورپ تک پھیل چکے ہیں، جہاں خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ صرف تیل کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ اربوں افراد کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے، جس میں خوراک، ادویات، توانائی اور سفری اخراجات شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی اسی راستے سے گزرتی ہے، جبکہ عالمی سلفر کی تقریباً 50 فیصد فراہمی اور مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کا تقریباً 30 فیصد حصہ بھی اسی گزرگاہ سے منتقل ہوتا ہے، جو صنعتی اور گھریلو استعمال کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ اس آبی راستے میں روانی برقرار رہنے سے عالمی معیشت مستحکم رہتی ہے، جبکہ کسی بھی خلل کی صورت میں اس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ نیویگیشن کی آزادی کو یقینی بنانے اور عالمی معاشی استحکام کے تحفظ کے لیے مشترکہ اور فیصلہ کن اقدامات کرے، اور اس ضمن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 پر عملدرآمد کی اہمیت کو اجاگر کیا۔