ریاض، 7 اپریل 2026 (وام)--خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیعی نے کہا ہے کہ جی سی سی ممالک کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز عارضی نہیں بلکہ ایک حقیقی امتحان ہیں، جن میں اہم شعبوں کے استحکام اور کارکردگی کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
یہ بات انہوں نے جی سی سی وزرائے سیاحت کی ہنگامی ورچوئل میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کی صدارت بحرین کی وزیر سیاحت فاطمہ الصیرافی نے کی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جی سی سی ممالک مشترکہ حکمت عملی اور مؤثر ہم آہنگی کے ذریعے موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کریں گے اور سیاحت کے شعبے کی پائیدار ترقی اور بحالی کو یقینی بنائیں گے۔
جاسم البدیعی نے کہا کہ جی سی سی ممالک عالمی سیاحتی مراکز کے طور پر اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں، تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث سیاحت کے شعبے، سفر کے رجحانات اور متعلقہ منڈیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک کو باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ سیاحت کے شعبے کی پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ 2024 میں جی سی سی ممالک میں 7 کروڑ 20 لاکھ سے زائد سیاح آئے، جس سے تقریباً 120 ارب ڈالر آمدن حاصل ہوئی۔ تاہم موجودہ کشیدگی کے باعث سیاحوں کی تعداد میں 80 لاکھ سے 1 کروڑ 90 لاکھ تک کمی اور 13 سے 32 ارب ڈالر تک نقصان کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جی سی سی ممالک ماضی کی طرح موجودہ چیلنجز سے بھی مؤثر انداز میں نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور باہمی تعاون کے ذریعے استحکام کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میڈیا پیغامات کو یکساں بنایا جائے اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے عالمی سطح پر اعتماد بحال کیا جائے، تاکہ جی سی سی خطہ محفوظ اور پرکشش سیاحتی مقام کے طور پر برقرار رہے۔