واشنگٹن، 8 اپریل، 2026 (وام) --امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اپنی مقررہ ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایران پر بمباری دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ ایران نے بھی ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ 14 روزہ جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی ہے۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ یہ پیش رفت پاکستان کی قیادت سے ہونے والی بات چیت کے بعد سامنے آئی، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے اور جس نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے گفتگو کے بعد انہوں نے ایران پر آج رات متوقع حملہ روکنے کا فیصلہ کیا، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ انداز میں کھولنے پر آمادہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ جنگ بندی دو طرفہ ہوگی، اور اس فیصلے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ اپنے فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان طویل المدتی امن معاہدے کے حوالے سے پیش رفت ہو رہی ہے، اور امریکہ کو ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے مذاکرات کے لیے قابل عمل بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بیشتر متنازع امور پر اتفاق ہو چکا ہے، اور آئندہ دو ہفتوں کے دوران معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم پیش رفت ہوگی۔