جنگ بندی کے اعلان پر متحدہ عرب امارات کی گہری نظر، ایران پر حملے روکنے اور جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانے پر زور

ابوظہبی، 8 اپریل، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کا بغور جائزہ لینے کا آغاز کیا ہے، جبکہ معاہدے کی شقوں سے متعلق مزید وضاحت طلب کی جا رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایران خطے میں تمام دشمنانہ کارروائیوں کے فوری خاتمے اور آبنائے ہرمز کو مکمل اور غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے سنجیدہ ہے۔

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ گزشتہ 40 دنوں کے دوران ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں، جن میں 2,819 بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ڈرونز کا بھی استعمال کیا گیا، نے بنیادی ڈھانچے، توانائی کی تنصیبات اور شہری مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات ہوئے۔ اس تناظر میں ایک مضبوط اور واضح مؤقف اپنانا ناگزیر ہے، جس میں ایران کو ان اقدامات پر جوابدہ ٹھہرانا اور ہونے والے نقصانات کا مکمل ازالہ یقینی بنانا شامل ہے۔

بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایران سے لاحق تمام خطرات—بشمول اس کی جوہری صلاحیتیں، بیلسٹک میزائل، ڈرونز، عسکری طاقت اور اس سے منسلک پراکسی و دہشت گرد گروہ—سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور پائیدار حکمت عملی اختیار کی جائے۔ اس کے ساتھ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو درپیش خطرات، معاشی جنگ اور بحری قزاقی کے خاتمے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ وزارت نے خطے کے تمام ممالک کے لیے پائیدار امن کے قیام کی امید کا اظہار کیا۔

متحدہ عرب امارات نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اس جنگ کا فریق نہیں ہے اور اس کے آغاز کو روکنے کے لیے اس نے دوطرفہ سطح پر اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے فریم ورک کے اندر بھرپور سفارتی کوششیں کیں۔ مزید برآں، امارات نے اس بات پر زور دیا کہ اس نے اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی کامیابیوں کا مؤثر تحفظ کیا ہے، اور ایران پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 (2026)، جو 11 مارچ 2026 کو منظور ہوئی اور ایرانی حملوں کی مذمت کے ساتھ ان کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے، پر مکمل عمل درآمد کرے۔