ون ہیلتھ سمٹ میں متحدہ عرب امارات کا انتباہ، علاقائی حملوں کے عالمی اثرات پر تشویش کا اظہار

لیون، 9 اپریل، 2026 (وام) --فرانس کے شہر لیون میں منعقدہ ون ہیلتھ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات نے خطے میں جاری غیر قانونی، بلا جواز اور بلا اشتعال حملوں کے صحت، ماحولیات اور خوراکی نظام پر پڑنے والے دور رس عالمی اثرات کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا۔ یہ سمٹ فرانسیسی صدر عمانوئل میکرون کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف ممالک کے سربراہان مملکت اور 30 سے زائد وزراء نے شرکت کی۔

صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی جانب سے وزیر صحت و روک تھام احمد بن علی السایغ نے سمٹ میں شرکت کی۔ یہ اجلاس فرانسیسی جمہوریہ کی جی 7 صدارت کے تحت ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا، جہاں پہلی بار ون ہیلتھ فریم ورک کے تحت سربراہان مملکت و حکومت کو یکجا کیا گیا۔

سمٹ میں چار فریقی عالمی ادارے—عالمی ادارہ صحت، عالمی ادارہ برائے حیوانات صحت، اقوام متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام اور اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت تنظیم—کے علاوہ 20 سے زائد ممالک کی حکومتوں کے وزارتی نمائندے، بین الاقوامی تنظیمیں، سائنسی ماہرین، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔

اپنے خطاب میں احمد السایغ نے متحدہ عرب امارات، خلیجی ریاستوں اور وسیع تر خطے پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ، "ایران کی جانب سے جاری غیر قانونی، بلا جواز اور بلا اشتعال حملے، جن میں 2,700 سے زائد ڈرونز اور میزائل شامل ہیں، انسانی جانوں، روزگار، اہم شہری انفراسٹرکچر اور ماحول پر بیک وقت اثر انداز ہو رہے ہیں۔"

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسانوں، جانوروں اور ماحول کی صحت ایک دوسرے سے الگ نہیں کی جا سکتی، بلکہ یہ گہرے طور پر باہم مربوط ہیں، اور ایک نظام پر پڑنے والا دباؤ فوری طور پر دیگر نظاموں کو بھی متاثر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال انسانی صحت، بنیادی ڈھانچے، ماحول اور عالمی سپلائی سسٹمز کے باہمی تعلق کو اجاگر کرتی ہے اور اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ صحت کے تحفظ کے لیے زیادہ مربوط اور پیشگی اقدامات پر مبنی حکمت عملی ناگزیر ہے۔

السایغ نے کہاکہ، "یہ ہر ملک، ہر صارف اور ہر اس خاندان کی صحت کے خلاف ایک جنگ ہے جو سستی توانائی اور خوراک پر انحصار کرتا ہے، یہ ان ماحولیاتی نظاموں کے خلاف ہے جو نقصان کا شکار ہیں، اور ان اہم وسائل کے خلاف ہے جو ہم سب کے مشترکہ ہیں۔"

انہوں نے ون ہیلتھ کے تصور کو زونوٹک بیماریوں سے آگے بڑھاتے ہوئے ماحولیاتی خطرات، خصوصاً فضائی آلودگی، پر توجہ دینے کی اہمیت کو اجاگر کیا، جو دنیا بھر میں دائمی بیماریوں اور طویل المدتی صحت کے مسائل کی بڑی وجہ ہے۔

انہوں نے سائنس، مؤثر حکمرانی اور بین الاقوامی تعاون پر مبنی صحت کے تحفظ کے لیے مربوط اور احتیاطی حکمت عملی اپنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

سمٹ کے موقع پر السایغ نے فرانسیسی صدر عمانوئل میکرون کی میزبانی میں ایک ظہرانے میں بھی شرکت کی، جس میں جمہوریہ گھانا کے صدر ڈاکٹرمانی مہاما، جمہوریہ بوٹسوانا کے صدر دوما گیڈیون بوکو، مملکت کمبوڈیا کے وزیر اعظم سامدچ تھپادے ہن مانیت، اور مملکت مراکش کے ایوان نمائندگان کے صدر رشید طالبی العلمی سمیت عالمی صحت اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے نمائندگان شریک تھے۔ اس ملاقات کا مقصد مشترکہ صحت ترجیحات پر تعاون کو فروغ دینا تھا۔

انہوں نے ان مشکل حالات میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ قیادت اور یکجہتی پر صدر میکرون کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اس موقع پر السایغ نے انڈونیشیا، اٹلی اور جمہوریہ کوریا کے وزارتی وفود کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں تاکہ صحت اور متعلقہ شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

متحدہ عرب امارات نے تمام شراکت داروں اور شرکاء سے مطالبہ کیا کہ وہ ون ہیلتھ کے جامع نقطہ نظر کے تحت متحد ہو کر انسانوں، جانوروں اور ماحول کی صحت کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کریں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب علاقائی سیکیورٹی صورتحال اور بین الاقوامی تعاون دباؤ کا شکار ہے۔

السایغ نے ون ہیلتھ اینڈ بیونڈ اعلامیے کی توثیق اور ون ہیلتھ سینٹر آف ایکسیلنس گلوبل نیٹ ورک کے ساتھ تعاون کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے صحت، ماحول اور موسمیاتی ترجیحات کو یکجا کرنے والے عملی اور قابل نفاذ حل کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔