مرکزی بینک کی رپورٹ، متحدہ عرب امارات میں رقم کی فراہمی اور بینکاری شعبے میں نمایاں اضافہ

ابوظہبی، 9 اپریل، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ فروری 2026 کے دوران رقم کی فراہمی کے مختلف اشاریوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مالیاتی سرگرمیوں میں بہتری اور معیشت کی مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق رقم کی فراہمی کے مجموعی اشاریہ M1 میں 1.7 فیصد اضافہ ہوا، جو جنوری 2026 کے آخر میں 1,081.3 ارب درہم سے بڑھ کر فروری کے اختتام پر 1,099.8 ارب درہم تک پہنچ گیا۔ یہ اضافہ بینکوں کے باہر گردش کرنے والی کرنسی میں 1.4 فیصد اور مانیٹری ڈپازٹس میں 1.8 فیصد اضافے کے باعث ہوا۔

اسی طرح رقم کی فراہمی کے مجموعی اشاریہ M2 میں فروری 2026 کے دوران 2.4 فیصد اضافہ ہوا، جو 2,789.8 ارب درہم سے بڑھ کر 2,856.8 ارب درہم تک پہنچ گیا۔ اس نمو کی بنیادی وجہ کوئزی مانیٹری ڈپازٹس میں 48.5 ارب درہم کا اضافہ رہا۔ اس میں سب سے نمایاں کردار کارپوریٹ سیکٹر کا رہا، جس کے ڈپازٹس میں 2.1 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی نمو میں 1.0 فیصد پوائنٹس کا حصہ ڈالا۔ افراد کے ڈپازٹس میں بھی 5.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گورنمنٹ ریلیٹڈ اینٹیٹیز (GREs) کے ڈپازٹس میں 1.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دیگر مالیاتی اداروں کے ڈپازٹس میں بھی 13 فیصد اضافہ ہوا، جو زیادہ تر غیر ملکی کرنسی کے ڈیمانڈ ڈپازٹس کی صورت میں تھا۔

رقم کی فراہمی کے مجموعی اشاریہ M3 میں 1.6 فیصد اضافہ ہوا، جو جنوری کے اختتام پر 3,301.5 ارب درہم سے بڑھ کر فروری کے اختتام پر 3,353.7 ارب درہم تک پہنچ گیا۔ تاہم حکومتی شعبے کے ڈپازٹس میں 2.9 فیصد کمی واقع ہوئی، جس نے مجموعی نمو پر جزوی منفی اثر ڈالا، لیکن دیگر شعبوں کے مثبت رجحان نے اس کمی کی تلافی کر دی۔

مانیٹری بیس میں بھی 2.0 فیصد اضافہ ہوا، جو 900.8 ارب درہم سے بڑھ کر 918.6 ارب درہم تک پہنچ گیا۔ یہ اضافہ بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے کرنٹ اکاؤنٹس اور اوور نائٹ ڈپازٹس میں 33.6 فیصد، ریزرو ریکوائرمنٹس میں 1.1 فیصد اور جاری کردہ کرنسی میں 0.6 فیصد اضافے کے باعث ہوا، جبکہ مانیٹری بلز اور اسلامی سرٹیفکیٹس آف ڈپازٹ میں 4.3 فیصد کمی نے مجموعی نمو کو کسی حد تک محدود رکھا۔

مرکزی بینک کے مطابق بینکاری شعبے کی مجموعی کارکردگی بھی مثبت رہی، جہاں بینکوں کے مجموعی اثاثے 1.1 فیصد بڑھ کر 5,472.5 ارب درہم تک پہنچ گئے۔ مجموعی کریڈٹ میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا، جو 2,630.6 ارب درہم تک پہنچ گیا، جس میں بنیادی کردار نجی شعبے کو دیے گئے قرضوں کا رہا، جو 1.3 فیصد بڑھے۔

مزید برآں، بینکوں کے ڈپازٹس میں 1.9 فیصد اضافہ ہوا، جو 3,336.8 ارب درہم سے بڑھ کر 3,400 ارب درہم تک پہنچ گئے۔ اس میں زیادہ تر اضافہ رہائشی ڈپازٹس میں 1.7 فیصد اضافے کے باعث ہوا، جبکہ غیر رہائشی ڈپازٹس میں بھی 3.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رہائشی ڈپازٹس میں سب سے بڑا حصہ نجی شعبے کا رہا، جس کے ڈپازٹس میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گورنمنٹ ریلیٹڈ اینٹیٹیز اور دیگر مالیاتی اداروں کے ڈپازٹس میں بھی مثبت اضافہ دیکھا گیا۔

تاہم حکومتی شعبے کے ڈپازٹس میں 2.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو فروری 2026 کے اختتام پر 392 ارب درہم تک محدود ہو گئے۔

یہ اعداد و شمار متحدہ عرب امارات کے مالیاتی نظام کی مضبوطی، بینکاری شعبے کی وسعت اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور سرگرمیوں میں مسلسل اضافے کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔