ابوظبی، 23 اپریل، 2026 (وام)--ابوظہبی فیوچر انرجی کمپنی "مصدر" نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اپنی قیادت کے 20 سال مکمل ہونے پر عالمی سطح پر اپنی خدمات اور کردار کو اجاگر کیا ہے۔
مصدر کا قیام 23 اپریل 2006 کو متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان نے مبادلہ انویسٹمنٹ کمپنی کے ذریعے کیا تھا، جس کا مقصد ملکی معیشت کو متنوع بنانا اور دنیا بھر میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کو تیز کرنا تھا۔
دو دہائیوں کے دوران مصدر دنیا کے بڑے قابلِ تجدید توانائی ڈویلپرز اور آپریٹرز میں شامل ہو چکا ہے، جس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 65 گیگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 2030 تک 100 گیگاواٹ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی اور مصدر کے بانی چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے کہا کہ 2006 میں قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری ایک جرات مندانہ فیصلہ تھا، جب یہ شعبہ ابھی ابتدائی مراحل میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان نے اس شعبے کی موجودہ حالت نہیں بلکہ اس کے مستقبل کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیاد رکھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ قیادت کے طویل المدتی وژن اور مضبوط عزم کے باعث مصدر نے نہ صرف صاف توانائی کے رجحان کا ساتھ دیا بلکہ اس کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
مصدر کے چیف ایگزیکٹو محمد جمیل الرمّاحی نے کہا کہ گزشتہ 20 برسوں میں کمپنی کی ترقی متحدہ عرب امارات کی دوراندیشی اور بلند عزائم کا نتیجہ ہے، جس نے بروقت صاف توانائی کی بڑھتی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے معیشت کو متنوع بنانے پر توجہ دی۔
انہوں نے کہا کہ شراکت داری، جدت اور سرمایہ کاری کے ذریعے مصدر ایک عالمی کمپنی بن چکی ہے، جو دنیا بھر میں صاف توانائی کے منصوبوں کی ترقی اور فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر بجلی کی طلب میں اضافے کے پیش نظر مصدر قابلِ اعتماد اور کم لاگت توانائی فراہم کر رہا ہے۔
مصدر کا آغاز 2009 میں مصدر سٹی میں ایک شمسی توانائی کے منصوبے سے ہوا، اور اس کے بعد کمپنی نے متعدد بڑے منصوبے مکمل کیے، جن میں الظفرہ میں 2 گیگاواٹ شمسی توانائی کا منصوبہ بھی شامل ہے، جو 2023 میں تکمیل کے وقت دنیا کا سب سے بڑا واحد مقام پر قائم سولر پلانٹ تھا اور تقریباً دو لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کرتا ہے۔
2006 میں چند ملازمین سے آغاز کرنے والی کمپنی آج 12 ممالک میں 1,100 سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے۔ مصدر کے منصوبے مختلف براعظموں میں پھیلے ہوئے ہیں، جن میں اسکاٹ لینڈ میں دنیا کا پہلا تیرتا ہوا آف شور ونڈ فارم، انڈونیشیا میں جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے بڑا فلوٹنگ سولر منصوبہ، اور ازبکستان میں وسطی ایشیا کا سب سے بڑا ونڈ فارم شامل ہیں۔
2022 میں مصدر کے شیئر ہولڈرز کے ڈھانچے میں تبدیلی کے بعد ابوظبی نیشنل انرجی کمپنی (طاقہ)، مبادلہ اور ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ادنوک) اس کے مشترکہ شراکت دار بن گئے، جو کمپنی کی مزید ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔
حالیہ معاہدوں میں اسپین کی کمپنی سائیٹا ییلڈ، امریکا میں ٹیرا-جن میں 50 فیصد حصص اور یونان کی ٹرنا انرجی کا حصول شامل ہے، جس سے مصدر کی عالمی حیثیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔
مصدر اس وقت امارات واٹر اینڈ الیکٹرک کمپنی کے اشتراک سے ابوظبی میں دنیا کے پہلے بڑے مربوط قابلِ تجدید توانائی منصوبے پر کام کر رہا ہے، جس میں 5.2 گیگاواٹ شمسی توانائی کے ساتھ 19 گیگاواٹ گھنٹہ بیٹری سسٹم شامل ہوگا، جو ایک گیگاواٹ مسلسل بجلی فراہم کرے گا۔ اس منصوبے کو عالمی سطح پر ایک ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید برآں، مصدر نے فرانس کی کمپنی ٹوٹل انرجیز کے ساتھ 2.2 ارب ڈالر کے مشترکہ منصوبے کا معاہدہ بھی کیا ہے، جس کے تحت ایشیا کے نو ممالک میں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو یکجا کیا جائے گا۔
اپنی آئندہ ترقی کے لیے مصدر 2030 تک 100 گیگاواٹ ہدف کے حصول کی غرض سے 30 سے 35 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کرے گا اور ہر سال اوسطاً 10 گیگاواٹ نئی پیداواری صلاحیت شامل کرے گا۔