یو اے ای کا سپلائی چین مضبوط بنانے کے قومی پروگرام کا اعلان، معاشی تحفظ کو تقویت دینے پر زور

ابوظہبی، 29 اپریل، 2026 (وام)--وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی کے مطابق سپلائی چین کی مضبوطی کے لیے قومی پروگرام کا آغاز یو اے ای کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ معاشی تحفظ کو مستحکم بنائے، ضروری اشیاء کی مسلسل فراہمی یقینی بنائے اور عالمی حالات میں تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاری بہتر کرے۔

ایمریٹس نیوز ایجنسی، وام سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کو ایران کی جانب سے یو اے ای اور خطے کے دیگر ممالک پر حملوں کے دوران تیار اور آزمایا گیا، جس کا مقصد عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پروگرام میں عالمی سیاسی و معاشی حالات کو مدنظر رکھا گیا ہے، جن میں لاجسٹکس اور انشورنس کے بڑھتے اخراجات، اور علاقائی تنازعات کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹیں شامل ہیں۔

ڈاکٹر الزیودی کے مطابق ضروری اشیاء کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور 150 سے زائد اہم مصنوعات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ ان میں سے کئی اشیاء مخصوص ممالک سے درآمد کی جاتی ہیں، تاہم متبادل ذرائع بھی طے کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی عالمی رکاوٹ کے دوران ان کی دستیابی برقرار رکھی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پروگرام میں ان اشیاء کی مقامی سطح پر پیداوار بڑھانے کے منصوبے بھی شامل ہیں، جبکہ اہم شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کیے جا رہے ہیں تاکہ ہر صورتحال میں ضروری اشیاء کی فراہمی جاری رہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام سرکاری اور نجی شعبوں کی مشترکہ کاوش ہے، جس پر عمل درآمد مختلف ممالک اور اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے کیا جائے گا۔

ڈاکٹر الزیودی نے کہا کہ 4 مئی کو شروع ہونے والے "میک اٹ ان دی امارات 2026" پلیٹ فارم پر ان اہم اشیاء کا اعلان کیا جائے گا، جس سے سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور جدید ٹیکنالوجی کو ملک میں منتقل کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کا مقصد ایک مؤثر نظام قائم کرنا ہے جو عالمی اور علاقائی تبدیلیوں کا مقابلہ کر سکے، اور یو اے ای کو عالمی تجارت میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھنے میں مدد دے۔

انہوں نے کہا کہ یو اے ای درآمدی ذرائع کو متنوع بنانے، عالمی تجارتی شراکت داری کو وسعت دینے اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ضروری اشیاء تک مستقل رسائی یقینی بنائی جا سکے۔

انہوں نے اس پروگرام کو قومی معیشت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیادت کی ہدایات کے تحت یو اے ای مقامی، علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسا نظام قائم کرتا رہے گا جو چیلنجز کو مواقع میں بدل سکے اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دے۔