پورٹ سوڈان کو اسلحہ منتقلی کی کوشش، 13 افراد اور 6 کمپنیوں کے خلاف کیس عدالت کو بھیج دیا گیا

ابوظہبی، 30 اپریل، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے 13 ملزمان اور یو اے ای میں رجسٹرڈ 6 کمپنیوں کے خلاف اسلحہ اسمگلنگ، جعلسازی اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں مقدمہ دائر کرنے کا حکم جاری کیا ہے، جسے ابوظہبی کی وفاقی اپیل عدالت (اسٹیٹ سیکیورٹی کورٹ) میں پیش کیا جائے گا۔

استغاثہ کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمان نے یو اے ای کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے گولہ بارود کی ایک کھیپ پورٹ سوڈان اتھارٹی تک پہنچانے کی کوشش کی، جو ملکی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی۔

تحقیقات کے مطابق یہ معاملہ پورٹ سوڈان اتھارٹی کی اسلحہ کمیٹی سے منسلک ہے، جس کی سربراہی عبدالفتاح البرہان اور ان کے نائب یاسر العطا کر رہے تھے، جبکہ اس کارروائی میں عثمان محمد الزبیر محمد کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کیس میں دیگر افراد کے خلاف بھی ہدایات دینے اور رابطہ کاری کے الزامات شامل ہیں، جن میں صلاح عبداللہ محمد صالح المعروف صلاح گوش شامل ہیں۔

ملزمان پر غیر قانونی اسلحہ کی تجارت، سرکاری دستاویزات میں جعلسازی اور ان کے استعمال، اور ان جرائم سے حاصل شدہ رقم کو قانونی ظاہر کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

استغاثہ کے مطابق یہ کارروائی دو مختلف لیکن باہم منسلک معاملات کے ذریعے انجام دی گئی، جن میں پیشگی منصوبہ بندی اور تجارتی و مالی ذرائع کا استعمال کر کے غیر قانونی سرگرمی کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔

پہلے مرحلے میں، جو یو اے ای سے باہر طے پایا، تقریباً 13 ملین ڈالر مالیت کے اسلحہ، جن میں کلاشنکوف رائفلیں، مشین گنز اور گرنیڈ شامل تھے، کی فراہمی کا معاہدہ کیا گیا، جبکہ اس کی اصل مالیت 10 ملین ڈالر سے کم تھی۔ اضافی رقم کو غیر قانونی کمیشن کے طور پر ملزمان میں تقسیم کیا گیا اور یہ رقوم یو اے ای میں کمپنیوں اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کی گئیں۔

دوسرے مرحلے میں، پہلی ڈیل سے حاصل شدہ 2 ملین ڈالر سے زائد رقم استعمال کرتے ہوئے مزید گولہ بارود خریدا گیا۔ اس کھیپ کا کچھ حصہ جعلی طریقوں سے ایک نجی طیارے کے ذریعے یو اے ای لایا گیا تاکہ اسے پورٹ سوڈان منتقل کیا جا سکے۔

متعلقہ اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس منصوبے کو بے نقاب کیا، مالی لین دین اور کھیپ کی نگرانی کی، ملزمان کو گرفتار کیا اور اسلحہ کی منتقلی کو ناکام بنا دیا۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس منصوبے کے تحت مزید پانچ ملین کارتوس اسمگل کرنے کی تیاری تھی، تاہم ابتدائی کھیپ کی ناکامی کے باعث یہ منصوبے مکمل نہ ہو سکے۔

استغاثہ نے کہا کہ کیس میں مالی ریکارڈ، دستاویزات، بینک ٹرانزیکشنز اور ملزمان کے اعترافات سمیت مضبوط شواہد موجود ہیں، جن سے تمام کارروائی کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

اٹارنی جنرل نے اس سے قبل 30 اپریل 2025 کو بھی اعلان کیا تھا کہ سیکیورٹی اداروں نے اسلحہ اسمگل کرنے کی ایک کوشش ناکام بنائی تھی، جس کی بنیاد پر موجودہ کیس قائم کیا گیا۔

اپنے بیان میں استغاثہ نے واضح کیا کہ یو اے ای اپنی سرزمین، اداروں یا مالی نظام کو کسی غیر قانونی سرگرمی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، اور ریاست کی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

عدالت میں پیش کیے گئے ملزمان اور کمپنیوں کی فہرست میں 13 افراد اور 6 تجارتی ادارے شامل ہیں۔

مقدمے میں نامزد افراد کے نام:

۱۔ راشد عمر عبدالقادر علی،

۲۔ محمد الفتح محمد بیک،

۳۔ صلاح عبداللہ محمد صالح،

۴۔ عبداللہ خلف اللہ،

۵۔ احمد ربیع سید احمد محمد،

٦۔ یاسر عبدالرحمن حسن العطا،

۷۔ عثمان محمد الزبیر محمد،

۸۔ ماہر عبدالجلیل محمد عبدالجلیل،

۹۔ خالد یوسف مختار یوسف،

۱۰۔ احمد خلف اللہ عبداللہ احمد،

۱۱۔ مبارک علی الشیخ محمد،

۱۲۔ عثمان بکر علی کرار،

۱۳۔ مصعب عوض الکریم حسن محمد۔

نامزد کمپنیوں کے نام:

۱۔ راشد عمر بروکریج کمپنی،

۲۔ پورٹیکس ٹریڈ لمیٹڈ،

۳۔ وردات المسرة ٹریڈنگ کمپنی،

۴۔ سودامینا کمپنی،

۵۔ ییلو سینڈ ٹریڈنگ کمپنی،

٦۔ اپولارا الیکٹرانکس ٹریڈنگ کمپنی۔