ابوظہبی، 7 مئی 2026 (وام)--نائب صدر، نائب وزیر اعظم اور صدارتی دیوان کے چیئرمین عزت مآب شیخ منصور بن زاید النہیان نے جارحیت کے اعمال، بین الاقوامی جرائم اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی دستاویز بندی کے لیے قومی کمیٹی کے قیام سے متعلق 2026 کی قرارداد نمبر (4) جاری کی ہے۔ یہ اقدام بین الاقوامی قانونی اور فنی معیار کے مطابق خلاف ورزیوں کی منظم دستاویز بندی کے حوالے سے یو اے ای کے ادارہ جاتی طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔
قرارداد کے مطابق کمیٹی کی سربراہی متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل کریں گے، جبکہ اس کا بنیادی مقصد ایران کی جانب سے کی گئی جارحیت، بین الاقوامی جرائم اور ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی مکمل دستاویز بندی کرنا ہے، جن سے یو اے ای کی سرزمین، شہری، رہائشی اور زائرین متاثر ہوئے۔
وسیع نمائندگی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی
کمیٹی میں متعدد اہم وفاقی وزارتوں اور مقامی اداروں کی نمائندگی شامل کی گئی ہے، جس کا مقصد سیکیورٹی، عدالتی، تکنیکی اور اقتصادی اداروں کے درمیان مربوط تعاون کو یقینی بنانا اور دستاویز بندی کے عمل کو زیادہ جامع اور درست بنانا ہے۔
اسی تناظر میں قرارداد کے تحت کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ قومی اور بین الاقوامی ماہرین اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین سے معاونت حاصل کر سکے، جبکہ اس پر لازم ہوگا کہ وہ آئین، ملکی قوانین اور بین الاقوامی جرائم کی دستاویز بندی سے متعلق عالمی معیار کی مکمل پابندی کرے۔
بین الاقوامی معیار کے مطابق جامع اختیارات
قرارداد کے تحت کمیٹی کو وسیع اختیارات دیے گئے ہیں، جن میں ایرانی جارحیت سے منسلک تمام حملوں اور عسکری کارروائیوں کی نگرانی اور دستاویز بندی شامل ہے۔ کمیٹی ان واقعات کی نوعیت، وقت اور زمینی حالات کا تفصیلی جائزہ لے گی تاکہ واقعات کا ایک مکمل اور مربوط ریکارڈ تیار کیا جا سکے۔
کمیٹی انسانی، مادی اور اقتصادی نقصانات کا تعین اور تخمینہ منظور شدہ تکنیکی طریقہ کار کے مطابق کرے گی، جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تفصیلات بھی مستند سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر جمع کی جائیں گی۔
کمیٹی کی ذمہ داریوں میں شواہد، دستاویزات، تکنیکی، انجینئرنگ، طبی اور فرانزک رپورٹس جمع کرنا اور ان کا تجزیہ کرنا بھی شامل ہے، تاکہ بین الاقوامی جرائم کی دستاویز بندی عالمی اور قومی معیار کے مطابق یقینی بنائی جا سکے۔ اس عمل میں قانونی شواہد کی حفاظت کے مکمل نظام کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ ان شواہد کی قانونی حیثیت اور قابلِ اعتماد ہونے کو یقینی بنایا جا سکے۔
شواہد کے تحفظ کے لیے محفوظ ڈیجیٹل نظام
قرارداد میں کمیٹی کے لیے ایک تکنیکی سیکریٹریٹ قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے، جو کمیٹی کے کام کی تیاری اور فیصلوں پر عملدرآمد کا ذمہ دار ہوگا۔
سیکریٹریٹ ایک محفوظ مرکزی ڈیٹا بیس قائم کرے گا، جس میں شواہد، معلومات اور متعلقہ رپورٹس کو جمع، محفوظ اور درجہ بند کیا جائے گا۔ اس ڈیٹا بیس کو جدید تکنیکی نظام کے تحت چلایا جائے گا تاکہ معلومات کی حفاظت، ردوبدل کی روک تھام، رسائی اور ترمیم کی نگرانی، بیک اپ کا تحفظ اور جسمانی و ڈیجیٹل شواہد کی مکمل دستاویز بندی یقینی بنائی جا سکے۔
قومی و بین الاقوامی قانونی اقدامات کو تقویت
یہ قرارداد قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے، انسانی حقوق کے تحفظ اور خلاف ورزیوں کی دستاویز بندی کے حوالے سے یو اے ای کے عزم کی عکاس ہے، تاکہ انصاف کے حصول اور حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
کمیٹی کے کام کے نتائج یو اے ای کی قومی اور بین الاقوامی قانونی کوششوں کو تقویت دیں گے، کیونکہ اس کے تحت ایک جامع دستاویزی فائل تیار کی جائے گی، جو عالمی معیار کے مطابق مرتب کردہ شواہد کی بنیاد پر احتسابی کارروائیوں میں معاون ثابت ہوگی۔