“الثریا-4” سیٹلائٹ نظام اہم شعبوں میں مواصلاتی خدمات کو نئی شکل دے رہا ہے: اسپیس42

ابوظبی، 7 مئی 2026 (وام)--اسپیس42 کے ذیلی ادارے “اسپیس سروسز” کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی الہاشمی کے مطابق “الثریا-4” سیٹلائٹ نظام سیٹلائٹ مواصلات کو محض بیک اپ سہولت سے ایک مربوط آپریشنل پلیٹ فارم میں تبدیل کر رہا ہے، جو بحری جہازوں، دور دراز توانائی منصوبوں، فضائی نیٹ ورکس اور فیلڈ ٹیموں کے لیے محفوظ اور فوری رابطے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے “میک اٹ اِن دی ایمریٹس 2026” کے موقع پر امارات نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیچیدہ آپریشنل ماحول میں محفوظ اور قابلِ اعتماد مواصلاتی نظام کاروباری تسلسل کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے، جو اہم شعبوں میں اثاثوں، ٹیموں، نظاموں اور فیصلہ سازی کے مراکز کو باہم مربوط رکھتا ہے۔

علی الہاشمی نے کہا کہ قومی سلامتی، توانائی، بحری خدمات، ہوا بازی، امدادی کارروائیوں اور صحت کے شعبے تیزی سے بلاتعطل رابطے پر انحصار کر رہے ہیں، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں زمینی مواصلاتی ڈھانچہ محدود یا موجود نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ بحرانوں اور قدرتی آفات کے دوران سیٹلائٹ مواصلات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ زمینی نیٹ ورکس متاثر ہونے کی صورت میں سیٹلائٹ ایک آزاد مواصلاتی نظام کے طور پر کام کرتے ہوئے امدادی ٹیموں، سرکاری اداروں اور اہم شعبوں کے درمیان رابطہ برقرار رکھتے ہیں۔

ان کے مطابق اسپیس42 اس تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک مربوط مواصلاتی نظام تیار کر رہی ہے، جس میں سیٹلائٹ اثاثے، زمینی انفراسٹرکچر، مقامی شراکت داریاں اور اہم شعبوں کے لیے مخصوص آپریشنل مصنوعات شامل ہیں۔

علی الہاشمی نے کہا کہ “الثریا-4” کی تجارتی سطح پر تیاری ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسپیس42 نے نومبر 2025 میں “الثریا-4” کی نئی نسل کے موبائل سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کی عالمی دستیابی کا اعلان کیا تھا، جو یورپ، افریقا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے 100 سے زائد ممالک میں محفوظ اور قابلِ اعتماد رابطہ فراہم کرتا ہے، جبکہ حکومتی اور تجارتی صارفین کے لیے 16 نئی مصنوعات کی معاونت بھی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ “الثریا-4” کی انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) اور ڈائریکٹ ٹو ڈیوائس (D2D) ٹیکنالوجی کے ساتھ مطابقت سیٹلائٹ مواصلات کو روزمرہ استعمال کا زیادہ مربوط حصہ بنا رہی ہے، جس سے حکومتوں اور کاروباری اداروں کو بہتر خدمات فراہم کرنا ممکن ہو رہا ہے۔

کمپنی کی مسابقتی برتری کے حوالے سے علی الہاشمی نے کہا کہ اسپیس42 آپریشنل مہارت، خودمختار صلاحیتوں، سیٹلائٹ انفراسٹرکچر اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کو یکجا کرتی ہے، جبکہ “الثریا” کے ذریعے موبائل سیٹلائٹ مواصلات کے شعبے میں کئی دہائیوں کے تجربے سے بھی فائدہ اٹھا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی کی ترجیحات میں حکومتی، تجارتی، بحری، فضائی، توانائی اور فیلڈ آپریشنز کے لیے سیٹلائٹ مواصلاتی صلاحیتوں کو وسعت دینا شامل ہے، جبکہ “ایکویٹیز” کے ذریعے مشترکہ انفراسٹرکچر ماڈلز کی ترقی اور 'D2D' و 'IoT' رابطوں کے فروغ پر بھی کام جاری ہے۔

علی الہاشمی نے اس بات پر زور دیا کہ یو اے ای میں لائسنس یافتہ ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کمپنی کی اسٹریٹجک ترجیحات میں شامل ہے تاکہ زمینی اور سیٹلائٹ نیٹ ورکس کے درمیان محفوظ، مربوط اور مؤثر رابطہ یقینی بنایا جا سکے، جو ملکی ضوابط، سیکیورٹی اور رازداری کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔