دبئی، 12 مئی، 2026 (وام) -- نیشنل ایمرجنسی، کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این سی ای ایم اے) اور وزارتِ صحت و تحفظ نے ہینٹا وائرس سمیت کسی بھی ممکنہ صحت کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے قومی نگرانی اور ردعمل کے نظام کی مکمل تیاری کی تصدیق کی ہے۔
دونوں اداروں کے مطابق ملک میں نافذ صحت عامہ کی نگرانی اور تیاری کے اقدامات کا بین الاقوامی معیار اور بہترین عالمی طریقہ کار کے مطابق مسلسل جائزہ اور تجدید کی جاتی ہے۔
یہ بات انسانی وباؤں سے متعلق ہنگامی حالات، بحرانوں اور آفات کے انتظام کے قومی ٹیم کے اجلاس کے دوران سامنے آئی، جس کی صدارت وزیرِ صحت و تحفظ احمد علی الصایغ نے این سی ای ایم اے کی نگرانی میں کی۔ اجلاس میں متعلقہ اداروں اور اسٹریٹجک شراکت داروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں ہینٹا وائرس سے متعلق تازہ صورتحال، یو اے ای کے قومی صحت نگرانی اور ردعمل کے نظام، موجودہ احتیاطی اقدامات، اور مقامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ و تعاون کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔
قومی ٹیم نے اس بات کی توثیق کی کہ احتیاطی نگرانی کے اقدامات یو اے ای کی پیشگی حکمت عملی کے تحت مسلسل جاری رہیں گے، تاکہ صحتِ عامہ کی تیاری اور متعدی امراض سے نمٹنے کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ صحت کی مختلف صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے طبی مراکز اور طبی عملہ مکمل طور پر تیار ہے۔
قومی ٹیم نے عوام پر زور دیا کہ معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کی جائیں اور غیر مصدقہ یا غلط معلومات کے پھیلاؤ سے گریز کیا جائے۔ اس موقع پر عوامی صحت کے تحفظ اور معاشرتی آگاہی کو فروغ دینے کے لیے یو اے ای کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہینٹا وائرس کو عالمی وبا کے پھیلاؤ کے حوالے سے کم خطرے والا وائرس قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق اس وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کے امکانات محدود ہیں اور زیادہ تر کیسز چوہوں یا ان کے فضلے سے آلودہ ماحول سے براہِ راست رابطے کے نتیجے میں سامنے آتے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او نے مزید کہا کہ موجودہ صحت عامہ کی صورتحال ایسی نہیں جو کسی ممکنہ عالمی وبا کے خطرے پر تشویش کا باعث بنے۔