شارجہ، 14 مئی، 2026 (وام) -- مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا کی سب سے بڑی کم لاگت ایئرلائن ایئر عربیہ نے 31 مارچ 2026 کو ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے مالی اور آپریشنل نتائج کا اعلان کیا ہے۔
ایئر عربیہ نے پہلی سہ ماہی میں 278 ملین درہم خالص منافع حاصل کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 355 ملین درہم کے مقابلے میں 22 فیصد کم ہے۔
کمپنی کے مطابق منافع میں کمی کی بنیادی وجہ خطے میں جاری کشیدگی اور تنازع کے باعث فضائی حدود کی بندش اور عارضی آپریشنل پابندیاں تھیں، جن کے نتیجے میں پروازوں کی گنجائش میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔
اس کے باوجود ایئرلائن کی مجموعی آمدن 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 1.8 ارب درہم رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ایک فیصد زیادہ ہے۔
اسی دوران ایئر عربیہ نے اپنے مختلف آپریشنل مراکز کے ذریعے 47 لاکھ مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کی، جو سالانہ بنیاد پر 5 فیصد کم ہے۔
تاہم دستیاب نشستوں کے مقابلے میں مسافروں کے تناسب، یعنی “سیٹ لوڈ فیکٹر”، میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 86 فیصد تک پہنچ گیا، جو ایئر عربیہ کی خدمات کی مضبوط مانگ کی عکاسی کرتا ہے۔
ایئر عربیہ کے چیئرمین شیخ عبداللہ بن محمد آل ثانی نے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری تنازع، فضائی حدود پر پابندیوں اور آپریشنل رکاوٹوں کے باوجود ایئر عربیہ نے غیرمعمولی لچک اور مؤثر حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایئرلائن نے تیزی سے بدلتی صورتحال کے مطابق اپنی گنجائش اور آپریشنز کو مؤثر انداز میں منظم کیا، جس کے باعث کمپنی جاری بحرانی صورتحال کے اثرات کو کامیابی سے سنبھالنے میں کامیاب رہی۔
شیخ عبداللہ آل ثانی نے کہا کہ مشکلات کے باوجود کمپنی نے مضبوط مالی نتائج حاصل کیے، جس کی بنیاد ان روٹس پر مسافروں کی مسلسل طلب رہی جہاں ایئر عربیہ اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے تھی۔
انہوں نے اس کامیابی کو کمپنی کے ملٹی ہب بزنس ماڈل، اخراجات پر سخت کنٹرول، آپریشنل کارکردگی اور اعلیٰ معیار کی خدمات کا نتیجہ قرار دیا۔
پہلی سہ ماہی کے دوران ایئر عربیہ نے متحدہ عرب امارات، مراکش، مصر اور پاکستان میں اپنے مراکز سے 90 ایئربس اے320 اور اے321 طیاروں پر مشتمل بیڑے کے ذریعے آپریشنز جاری رکھے۔
کمپنی نے بتایا کہ ایئربس کے موجودہ آرڈرز کے تحت رواں سال مزید نئے طیارے بھی بیڑے میں شامل کیے جائیں گے۔
فروری 2026 میں ایئر عربیہ کو فوربز مڈل ایسٹ کی “ٹاپ 100 سب سے قیمتی کمپنیوں” کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا، جو اس کی مالی مضبوطی اور آپریشنل کارکردگی کا اعتراف ہے۔
ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ESG) معیار کے فروغ کے سلسلے میں ایئر عربیہ نے اپنے 2025 ESG رپورٹ کے لیے بین الاقوامی معیار ISAE 3000 کے مطابق “لمیٹڈ ایشورنس اسٹیٹمنٹ” بھی حاصل کیا، جسے شفافیت، احتساب اور پائیدار ترقی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
شیخ عبداللہ آل ثانی نے کہا کہ مستقبل میں بھی علاقائی اور عالمی سطح پر جاری غیر یقینی صورتحال، ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مہنگائی اور عالمی سپلائی چین پر دباؤ ایئرلائن صنعت کیلئے چیلنج بنے رہیں گے، تاہم ایئر عربیہ اپنی مضبوط حکمت عملی اور لچکدار آپریشنز کے ذریعے صارفین کو بہترین خدمات فراہم کرتی رہے گی۔