دبئی، 17 مئی، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات نے پیش بینی، حکومتی لچک اور مستقبل بینی پر مبنی اپنے ترقیاتی ماڈل کی کامیابی کا ایک اور ثبوت پیش کرتے ہوئے “چینڈلر گڈ گورنمنٹ انڈیکس 2026” میں دنیا کی 10 بہترین اور مؤثر حکومتوں میں اپنی جگہ برقرار رکھی ہے۔
یہ کامیابی مستقبل پر مبنی حکمرانی، جدت، ادارہ جاتی کارکردگی اور عالمی تبدیلیوں سے ہم آہنگی پر مبنی یو اے ای کی قیادت کے وژن کی عکاس ہے، جس نے ملک کو جدید حکمرانی کے عالمی ماڈل کے طور پر مزید مستحکم کیا ہے۔
یو اے ای کی نمایاں کارکردگی اس حکومتی نظام کی کامیابی کو ظاہر کرتی ہے جس نے قومی اہداف کو عالمی سطح کی عملی کامیابیوں میں تبدیل کیا۔ اس نظام میں پالیسی سازی کی مؤثریت، معاشی کشش، معیارِ زندگی میں بہتری اور انسانی سرمایہ کاری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
یہ حکمت عملی “وی دی یو اے ای 2031” وژن کے اہداف سے ہم آہنگ ہے اور ملک کو مستقبل کی تشکیل میں ایک قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار اور مرکز کے طور پر مستحکم کرتی ہے۔
133 ممالک کا جائزہ لینے والے “چینڈلر گڈ گورنمنٹ انڈیکس” میں یو اے ای کی پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کا حکومتی ماڈل پیشگی تیاری، تیز رفتار عملدرآمد، حکومتی لچک، تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور نئے مواقع پیدا کرنے کی اہلیت پر مبنی ہے۔
اس موقع پر وزیرِ کابینہ امور محمد عبداللہ القرقاوی نے کہا کہ صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کے وژن اور نائب صدر، وزیرِاعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی نگرانی میں متحدہ عرب امارات نے حکومتی کام کے عالمی تصور کو ازسرِنو متعین کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یو اے ای نے ایسا حکومتی ماڈل تشکیل دیا ہے جو تیز رفتار کارکردگی، مؤثر فیصلوں، لچکدار پالیسی سازی اور مسلسل ترقی پر مبنی ہے۔
القرقاوی نے کہا کہ اماراتی قیادت نے صرف موجودہ حالات کو چلانے والی روایتی حکومت قائم نہیں کی بلکہ ایسی حکومت تشکیل دی جو مستقبل کو تشکیل دیتی ہے، مواقع پیدا کرتی ہے، تبدیلیوں کی پیشگی نشاندہی کرتی ہے اور عالمی چیلنجز کو ترقی کے نئے راستوں میں تبدیل کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی اشاریے اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ یو اے ای آج دنیا کی سب سے مؤثر، لچکدار اور تیز رفتار حکومتوں میں شامل ہو چکا ہے۔
یو اے ای نے گڈ گورننس کے شعبے میں عرب دنیا اور خطے میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ متعدد عالمی اشاریوں میں بھی سرفہرست رہا۔
ملک نے حکومتی جدت، اسٹریٹجک ترجیحات طے کرنے کی صلاحیت، منصوبوں اور حکمت عملیوں کے نفاذ میں لچک اور بجٹ سرپلس کے اشاریوں میں دنیا بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
یہ نتائج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یو اے ای کا حکومتی ماڈل مستقبل کی پیش بینی اور وژن کو عملی ترقیاتی نتائج میں تبدیل کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
متحدہ عرب امارات حکومتی خدمات سے اطمینان، موافقت پذیری اور روزگار کے اشاریوں میں عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر رہا، جو معیارِ زندگی میں بہتری، حکومتی خدمات کی مؤثریت، قومی صلاحیتوں کو بااختیار بنانے اور عالمی ٹیلنٹ کو متوجہ کرنے میں اس کی پالیسیوں کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔
یو اے ای نے طویل المدتی وژن اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے اشاریوں میں دنیا بھر میں تیسری پوزیشن بھی حاصل کی، جو مربوط حکومتی نظام، طویل المدتی منصوبہ بندی اور عالمی تبدیلیوں سے ہم آہنگ لچکدار پالیسی سازی کی کامیابی کا مظہر ہے۔