قازقستان میں مصدر کے ایک گیگا واٹ ونڈ فارم منصوبے پر کام شروع، 1.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

ژامبیل ریجن (قازقستان)، 29 جون، 2026 (وام) -- عالمی سطح پر صاف توانائی کے شعبے میں سرگرم ابوظہبی فیوچر انرجی کمپنی، مصدر نے قازقستان کے ژامبیل ریجن میں اپنے ایک گیگا واٹ ونڈ فارم منصوبے پر باضابطہ طور پر تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ قازقستان میں مصدر کا پہلا قابلِ تجدید توانائی کا منصوبہ ہے، جبکہ وسطی ایشیا کے بڑے مربوط ونڈ اور بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے والے منصوبوں میں بھی شمار ہوتا ہے۔ 1.4 ارب امریکی ڈالر مالیت کے اس منصوبے میں 600 میگا واٹ آور صلاحیت کا بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) بھی شامل ہے، جو بجلی کے نظام کے استحکام میں معاون ہوگا۔

اس منصوبے کی قیادت مصدر کر رہی ہے، جبکہ اسے ڈبلیو سولر، قزاق گرین پاور، سمرک-قازینہ فنڈ کی ذیلی کمپنی اور قازقستان انویسٹمنٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے اشتراک سے تیار کیا جا رہا ہے۔

منصوبے کی افتتاحی تقریب میں متحدہ عرب امارات اور قازقستان کے اعلیٰ حکومتی حکام اور نمائندوں نے شرکت کی، جس سے پائیدار ترقی اور صاف توانائی کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کے مضبوط تعاون کی عکاسی ہوئی۔

منصوبہ مکمل ہونے پر جنوبی قازقستان میں تقریباً 8 لاکھ 80 ہزار گھروں کو صاف بجلی فراہم کی جا سکے گی، جبکہ سالانہ تقریباً 25 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے بھی بچاؤ ممکن ہوگا۔ اس کے علاوہ جنوبی قازقستان میں 400 کلومیٹر سے زائد طویل بجلی کی ترسیلی لائنیں تعمیر کر کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔

اس موقع پر مصدر نے قازقستان کی وزارتِ مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ ایک روڈ میپ معاہدے پر بھی دستخط کیے، جس کے تحت ملک کے پہلے راؤنڈ دی کلاک (RTC) صاف توانائی منصوبے کی ترقی کی راہ ہموار کی جائے گی۔ اس منصوبے کا مقصد چوبیس گھنٹے مسلسل صاف توانائی فراہم کرنا ہے۔

منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 200 میگا واٹ تک مستقل بجلی فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ روڈ میپ معاہدے میں منصوبے کے مقام کے انتخاب، تکنیکی جائزے اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری جیسے امور شامل ہیں۔

سمرک-قازینہ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نورلان ژاکوپوف نے کہا کہ مصدر کے ساتھ اس اہم منصوبے کا آغاز دونوں اداروں کی اسٹریٹجک شراکت داری میں ایک نئے باب کا آغاز ہے، جو کم کاربن معیشت، جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار توانائی کے فروغ کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

قازقستان کے وزیرِ توانائی و بنیادی ڈھانچہ یرلان اکن ژینوف نے کہا کہ مصدر کے ساتھ شراکت داری ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور کاربن نیوٹرل معیشت کے ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت منصوبے کے تمام مراحل کی کامیاب تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

مصدر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد جمیل الرمحی نے کہا کہ یہ منصوبہ کمپنی کی عالمی توسیع اور وسطی ایشیا میں بڑھتی ہوئی موجودگی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق قازقستان میں مصدر کا یہ پہلا منصوبہ ملک کی طویل مدتی ترقی اور توانائی کے تحفظ کے لیے کمپنی کے عزم کا اظہار ہے۔

انہوں نے کہا کہ راؤنڈ دی کلاک صاف توانائی منصوبے سے متعلق روڈ میپ معاہدہ مستقبل کی صنعتوں کو قابلِ اعتماد، کم لاگت اور صاف توانائی فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

الفا ظہبی ہولڈنگ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر حمد العامری کے مطابق یہ منصوبہ صاف توانائی میں سرمایہ کاری کو پائیدار ترقی کا بنیادی ذریعہ بنانے کی کمپنی کی حکمت عملی کا اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصدر اور ڈبلیو سولر کے ساتھ شراکت داری اس بات کا ثبوت ہے کہ متحدہ عرب امارات صاف توانائی کے شعبے میں اپنی مہارت اور سرمایہ کاری کو عالمی سطح پر فروغ دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ونڈ فارم اور بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کا یہ منصوبہ صاف توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں طویل مدتی سرمایہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

قازقستان کا مجوزہ RTC منصوبہ مصدر کی مسلسل صاف توانائی فراہم کرنے والی ٹیکنالوجی میں قیادت کو مزید مضبوط بنائے گا۔ اکتوبر 2025 میں کمپنی نے ابوظبی میں دنیا کے سب سے بڑے 24 گھنٹے فعال شمسی اور بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے والے منصوبے پر بھی کام شروع کیا تھا، جس میں 5.2 گیگا واٹ شمسی توانائی کا پلانٹ اور 19 گیگا واٹ آور صلاحیت کا بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم شامل ہے، جو روزانہ ایک گیگا واٹ مستقل بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ منصوبے قازقستان کو قابلِ تجدید توانائی سے متعلق اپنے اہداف کے حصول میں مدد دیں گے، جبکہ وسطی ایشیا میں مصدر کی موجودگی کو مزید مستحکم کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کمپنی کے 2030 تک عالمی سطح پر 100 گیگا واٹ پیداواری صلاحیت کے ہدف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔

قازقستان نے 2030 تک اپنی مجموعی بجلی میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 15 فیصد اور 2050 تک 50 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ژامبیل ونڈ فارم منصوبہ ان اہداف کے حصول، توانائی کے تحفظ اور ملک کی پائیدار معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔