ابوظہبی، 16 جولائی، 2026 (وام) -- محکمہ ثقافت و سیاحت – ابوظہبی (ڈی سی ٹی ابوظہبی) نے العین کے علاقے قطارہ نیکروپولیس میں وادی سوق اور اواخر کانسی دور (تقریباً 2000 تا 1300 قبل مسیح) سے تعلق رکھنے والا ایک قدیم اجتماعی قبرستان دریافت کیا ہے، جسے متحدہ عرب امارات کی قدیم تاریخ اور تہذیب کے حوالے سے ایک اہم آثارِ قدیمہ کی دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔
محکمہ کے مطابق اس دریافت سے جزیرہ نمائے عرب کی قدیم آبادیوں کی سماجی روایات، تدفینی رسومات اور وسائل کے مؤثر استعمال کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ یہ دریافت العین کے قدیم تاریخی ورثے کو مزید اجاگر کرتی ہے اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل اس مقام کی تاریخی اہمیت کو بھی تقویت دیتی ہے۔
قطارہ نیکروپولیس ماضی میں بھی آثارِ قدیمہ کی کئی اہم دریافتوں کا مرکز رہا ہے، جہاں وادی سوق اور اواخر کانسی دور کے اجتماعی مقابر، آہنی دور کی انفرادی قبریں اور قبل از اسلام دور کے مینار نما مقابر دریافت ہو چکے ہیں۔ حالیہ دریافت ہونے والا مقبرہ اپنی غیر معمولی حالتِ حفاظت اور منفرد طرزِ تعمیر کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی تعمیر میں ام النار تہذیب (2700 تا 2000 قبل مسیح) کے قدیم تدفینی ڈھانچوں سے حاصل کیے گئے تراشیدہ پتھروں کو دوبارہ استعمال کیا گیا ہے۔
ڈی سی ٹی ابوظہبی کے چیئرمین محمد خلیفہ المبارک نے کہا کہ وادی سوق اور اواخر کانسی دور سے تعلق رکھنے والے اس مقبرے کی دریافت متحدہ عرب امارات کی تاریخ کے ابتدائی ادوار کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق ایسی دریافتیں ملک کے ثقافتی ورثے کی وسعت کو نمایاں کرتی ہیں اور اس کے تحفظ اور تحقیق کے لیے جاری کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ آثار ماضی سے تعلق کو مزید مضبوط بناتے ہیں اور نئی نسل کو اس عزم، جدت اور وسائل کے مؤثر استعمال سے روشناس کراتے ہیں جو صدیوں سے اس خطے کی شناخت رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ڈی سی ٹی ابوظبی امارت کے متنوع ثقافتی ورثے کے تحفظ اور اسے دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔
تقریباً 11 میٹر لمبا اور 2.5 میٹر چوڑا زیرِ زمین یہ مقبرہ کم از کم ایک ہزار برس تک سینکڑوں افراد کی اجتماعی تدفین کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ اس کا داخلی راستہ مشرق کی جانب بنایا گیا تھا تاکہ طلوعِ آفتاب کی روشنی مذہبی یا تدفینی رسومات کے دوران مقبرے کے اندر پہنچ سکے، جو تجدیدِ حیات اور آباؤ اجداد کے احترام کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ مقبرے کے دروازے پر نصب دو سو کلوگرام سے زائد وزنی پتھر بھی قدیم یادگار سے تراش کر تیار کیا گیا تھا۔
کھدائی کے دوران مٹی کے برتن، ہتھیار، زیورات اور دیگر تدفینی اشیا بھی برآمد ہوئی ہیں، جو اس دور کی سماجی زندگی اور تدفینی روایات پر روشنی ڈالتی ہیں۔ ان آثار اور انسانی باقیات کا ڈی سی ٹی ابوظہبی کے ماہرین تفصیلی سائنسی تجزیہ کر رہے ہیں، جبکہ ڈی این اے اور آئسوٹوپ تجزیوں کے ذریعے اس دور کے لوگوں کی خوراک، صحت، نقل مکانی اور تجارتی روابط سے متعلق اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔
محکمہ ثقافت و سیاحت – ابوظہبی کے مطابق یہ دریافت شہر کے ثقافتی ورثے کے تحفظ، تحقیق اور فروغ کے عزم کی عکاس ہے، جبکہ اس مقبرے سے ملنے والے نوادرات مستقبل میں ابوظہبی کے عجائب گھروں میں نمائش کے لیے پیش کیے جائیں گے تاکہ عوام متحدہ عرب امارات کی قدیم تاریخ کے اس اہم دور سے آگاہ ہو سکیں۔