مرکزی بینک کی رپورٹ: مئی میں ایم ون منی سپلائی 1.05 ٹریلین درہم، بینکوں کے اثاثے اور قرضوں میں بھی اضافہ

مرکزی بینک کی رپورٹ: مئی میں ایم ون منی سپلائی 1.05 ٹریلین درہم، بینکوں کے اثاثے اور قرضوں میں بھی اضافہ

ابوظہبی، 28 جولائی، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے "مانیٹری اینڈ بینکنگ ڈیولپمنٹس – مئی 2026" رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق مئی 2026 کے اختتام پر ایم ون منی سپلائی 1.0535 ٹریلین درہم تک پہنچ گئی۔ اس میں بینکوں سے باہر گردش کرنے والی کرنسی 167.6 ارب درہم جبکہ مانیٹری ڈپازٹس 885.9 ارب درہم رہے۔

رپورٹ کے مطابق ایم ٹو منی سپلائی مئی کے اختتام پر 2.8539 ٹریلین درہم رہی۔ اس دوران نیم مالی رقوم میں درہم ڈپازٹس بڑھ کر 1.1354 ٹریلین درہم ہو گئے، جس سے ایم ٹو کی ماہانہ نمو میں مثبت کردار ادا ہوا۔

اسی طرح ایم تھری منی سپلائی مئی 2026 کے اختتام پر 3.3934 ٹریلین درہم ریکارڈ کی گئی، جبکہ سرکاری شعبے کے ڈپازٹس بڑھ کر 539.5 ارب درہم تک پہنچ گئے، جس سے ایم تھری کی ماہانہ کارکردگی کو تقویت ملی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مانیٹری بیس مئی کے اختتام پر 848.5 ارب درہم رہی۔ اسی عرصے میں مرکزی بینک کے پاس بینکوں کے ریزرو بیلنس میں نمایاں 49.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 295.4 ارب درہم تک پہنچ گئے۔

مرکزی بینک کے مطابق اپریل 2026 کے اختتام پر بینکوں کے مجموعی اثاثے 5.5701 ٹریلین درہم تھے، جو مئی کے اختتام پر 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 5.6331 ٹریلین درہم ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق مئی کے دوران مجموعی قرضے میں 12.3 ارب درہم یا 0.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2.7207 ٹریلین درہم سے بڑھ کر 2.7331 ٹریلین درہم ہو گئے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ 13.8 ارب درہم کے گھریلو قرضوں میں اضافہ تھا، جبکہ غیر ملکی قرضوں کا حجم 562.5 ارب درہم پر آ گیا، جس کا مجموعی نمو پر معمولی منفی اثر پڑا۔

گھریلو قرضوں میں تمام شعبوں نے مثبت کردار ادا کیا، تاہم سب سے زیادہ اضافہ نجی شعبے کو دیے گئے قرضوں میں ہوا۔ کارپوریٹ اداروں اور افراد دونوں کو فراہم کیے گئے قرضوں میں 4.6 ارب درہم کا اضافہ ہوا، جبکہ سرکاری ملکیتی اداروں (GREs) کو دیے گئے قرضوں میں 3.5 ارب درہم یا 1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مئی 2026 کے اختتام پر بینکوں کے مجموعی ڈپازٹس 3.4634 ٹریلین درہم تک پہنچ گئے۔ اس دوران غیر مقیم افراد کے ڈپازٹس میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 318.6 ارب درہم تک پہنچ گئے، جبکہ مقیم صارفین کے ڈپازٹس میں اضافے کی بڑی وجہ دیگر مالیاتی اداروں (OFCs) کے ڈپازٹس تھے، جو 2.4 فیصد بڑھ کر 67.2 ارب درہم ہو گئے۔