دبئی، یکم ستمبر 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات کا 2050 تک خالص صفر کاربن اخراج کا ہدف بھارتی کمپنیوں کے لیے قابل تجدید توانائی، فضلے کے انتظام، پائیدار تعمیرات، ماحول دوست مالیات، برقی ذرائع نقل و حمل اور موسمیاتی ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک 2030 تک باہمی تجارت کو 200 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔
یہ بات انڈین بزنس اینڈ پروفیشنل کونسل دبئی کے توانائی و موسمیات فوکس گروپ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک خصوصی آن لائن سیمینار میں سامنے آئی، جس میں متحدہ عرب امارات کے خالص صفر اخراج کے اہداف سے بھارتی کمپنیوں کے لیے پیدا ہونے والے کاروباری امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
شرکا نے کہا کہ سبز معیشت آنے والے برسوں میں متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات کے فروغ کا ایک اہم ستون بن سکتی ہے۔
سیمینار کے کلیدی مقرر اور متحدہ عرب امارات میں بھارت کے سابق سفیر سنجے سدھیر نے کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ ضابطہ جاتی تقاضوں کی تمام تفصیلات حتمی ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے پیشگی تیاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضوابط پر عمل درآمد کی ایک لاگت ضرور ہوتی ہے، تاہم تاخیر سے قدم اٹھانے کی قیمت بروقت تیاری کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
انہوں نے موسمیاتی پالیسی میں رضاکارانہ وعدوں سے لازمی ضابطہ جاتی تقاضوں کی جانب بڑھتے رجحان کی نشاندہی کرتے ہوئے 2024 کے وفاقی فرمان نمبر 11 کا حوالہ دیا اور کمپنیوں اور اداروں میں اس حوالے سے آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
سنجے سدھیر نے کہا کہ فوسل ایندھن سے صاف توانائی کی جانب منتقلی کا عمل تیز ہو رہا ہے۔ انہوں نے بھارت کی ٹیکنالوجی، اختراعی صلاحیت اور صاف توانائی کے منصوبوں کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے سرمایہ، جدید بنیادی ڈھانچے اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو دونوں ممالک کی باہمی طور پر تکمیلی قوتیں قرار دیا، جو مشترکہ تعاون کو مزید وسعت دے سکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت کی قابل تجدید توانائی کی مجموعی صلاحیت کا تقریباً 87 فیصد نجی شعبے کی ملکیت میں ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ توانائی کی منتقلی اب محض حکومت کی قیادت میں جاری عمل نہیں بلکہ بھارتی کمپنیوں کے لیے ایک بڑی کاروباری منڈی بن چکی ہے۔
نیٹ زیرو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چیف سسٹین ایبلٹی آفیسر ڈاکٹر سمیع اللہ خان نے کہا کہ کاروباری مواقع صرف شمسی توانائی تک محدود نہیں۔ بھارتی کمپنیاں ہوا سے بجلی کی پیداوار، چھوٹے مقامی بجلی گرڈز، عمارتوں کی چھتوں پر شمسی توانائی کے نظام، ارضی حرارتی توانائی، کاربن کریڈٹس، فضا سے براہ راست کاربن کشید کرنے کی ٹیکنالوجی، توانائی کی بچت کے حل اور کاربن اخراج کی پیمائش سمیت متعدد شعبوں میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے زرعی ٹیکنالوجی اور فضلے کے انتظام کو بھی تیزی سے ابھرتے ہوئے اہم شعبوں میں شمار کیا۔
سیمینار میں موجودہ عمارتوں کو توانائی کے مؤثر استعمال کے تقاضوں کے مطابق جدید بنانے، فضلے کے انتظام اور برقی ذرائع نقل و حمل کو بھارتی کمپنیوں کے لیے فوری کاروباری مواقع کے حامل شعبوں کے طور پر نمایاں کیا گیا۔
شرکا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی کچرے کو لینڈ فل میں ٹھکانے لگانے پر انحصار کم کرنے کی پالیسی سے بھارتی فضلہ انتظامی ٹیکنالوجیز اور عملی انتظامی ماڈلز کی نمایاں طلب پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح برقی موٹر سائیکلوں اور موجودہ عمارتوں کو توانائی کے لحاظ سے زیادہ مؤثر بنانے کے شعبے میں بھارت کا تجربہ اماراتی منڈی کے لیے موزوں حل فراہم کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر سمیع اللہ خان نے متحدہ عرب امارات میں سبز علاقوں کے رقبے میں اضافے اور صحرائی ماحول کو زیادہ پائیدار بنانے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے بھارتی زرعی ٹیکنالوجی اور پانی کے مؤثر و کم استعمال پر مبنی جدید حل فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے بھی اہم مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔