امارات کی غیر تیل تجارت 1.9 ٹریلین درہم سے تجاوز، غیر ملکی سرمایہ کاری میں عالمی سطح پر نواں مقام

امارات کی غیر تیل تجارت 1.9 ٹریلین درہم سے تجاوز، غیر ملکی سرمایہ کاری میں عالمی سطح پر نواں مقام

دبئی، 7 ستمبر، 2026، (وام)-- متحدہ عرب امارات نے تجارت اور سرمایہ کاری کے عالمی مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط کی ہے، جہاں 2026 کی پہلی ششماہی میں غیر تیل بیرونی تجارت 1.9 ٹریلین درہم سے تجاوز کر گئی، جبکہ 2025 میں 48.3 ارب امریکی ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ ملک دنیا کی نویں بڑی سرمایہ کاری منزل بن گیا۔

وزیر تجارت خارجہ اور اے آئی ایم انویسٹمنٹ سمٹ 2026 کے 15ویں ایڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے آج دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں شروع ہونے والے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھلی اور بدلتے حالات سے ہم آہنگ معیشت، متنوع شراکت داریوں، جدید بنیادی ڈھانچے اور کاروبار دوست قانونی و ضابطہ جاتی ماحول نے متحدہ عرب امارات کو تجارت اور سرمایہ کاری کے عالمی مرکز کے طور پر مستحکم کیا ہے۔ ان عوامل نے عالمی تبدیلیوں کو ترقی کے نئے مواقع میں بدلنے کی ملکی صلاحیت بھی بڑھائی ہے۔

اجلاس میں رہنما، پالیسی ساز، ادارہ جاتی سرمایہ کار اور جدت کار شریک ہیں۔ اس میں 191 ممالک اور تنظیموں سے 25 ہزار شرکا اور دنیا بھر سے 540 مقررین شرکت کررہے ہیں، جبکہ 103 سیشنز میں کلیدی خطابات، باہمی تبادلہ خیال اور مکالمے شامل ہیں۔

ڈاکٹر الزیودی نے کہا کہ ’’عالمی خوشحالی کی نئی تشکیل: پائیدار اور سب کی شمولیت پر مبنی مستقبل کے لیے سرمایہ کاری کی نئی راہیں‘‘ کے موضوع پر منعقدہ یہ اجلاس ایسے وقت ہورہا ہے جب عالمی معیشت تیز رفتار تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی، جغرافیائی و سیاسی صف بندیوں میں تبدیلی، پائیداری کی کوششوں میں تیزی اور مختلف خطوں میں ترقی کے نئے مراکز کا ابھرنا تجارت اور سرمایہ کاری کے منظرنامے کو نئی شکل دے رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے ان تبدیلیوں کے لیے بروقت تیاری کی اور کھلی معیشت اور بین الاقوامی شراکت داریوں پر مبنی اقتصادی ماڈل کو مسلسل ترقی دی۔ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا مجموعی حجم بھی 1.17 ٹریلین درہم سے بڑھ چکا ہے۔

ڈاکٹر الزیودی کے مطابق آئندہ مرحلے میں عالمی معیشت کے جغرافیائی مراکز تیزی سے بدلیں گے، معیشتیں ٹیکنالوجی پر زیادہ انحصار کریں گی اور پائیداری سرمایہ کاری کے ایک اہم موقع کے طور پر سامنے آئے گی۔ اس تناظر میں انہوں نے مستقبل کے شعبوں، بالخصوص مصنوعی ذہانت، صاف توانائی، موسمیاتی ٹیکنالوجی، غذائی و آبی تحفظ اور پائیدار بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات سرمایہ کاروں کو ایک منڈی کے ساتھ ساتھ ترقی، کاروباری توسیع اور عالمی منڈیوں تک رسائی کا پلیٹ فارم بھی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ایسی طویل مدتی شراکت داریاں قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو علم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار ترقی میں سب کی شمولیت کو فروغ دیں۔

ڈاکٹر الزیودی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات منڈیوں اور معیشتوں کو جوڑنے اور تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے لیے نئی راہیں کھولنے کا کردار جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگلے مرحلے میں سرمایہ کاری کے مستقبل پر بات کرنے سے آگے بڑھ کر ’’مستقبل میں سرمایہ کاری‘‘ کرنا ہوگی۔