ابوظہبی، 21 ستمبر، 2026 (وام) -- امارات واٹر اینڈ الیکٹریسٹی کمپنی ای ڈبلیو ای سی نے پیش گوئی کی ہے کہ بجلی اور پانی کی پیداوار سے ہونے والا مجموعی کاربن اخراج 2019 کے تقریباً 4 کروڑ 20 لاکھ ٹن سے 45 فیصد سے زائد کم ہو کر 2035 تک تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ ٹن رہ جائے گا، جبکہ 2026 سے 2033 کے دوران بجلی کی سالانہ طلب میں تقریباً 70 فیصد اضافے کی توقع ہے۔
عالمی یومِ صفر اخراج کے موقع پر اپنی طویل مدتی منصوبہ بندی کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کمپنی نے کہا کہ بڑھتی ہوئی بجلی اور پانی کی مانگ پوری کرنے کے ساتھ نظام کو زیادہ صاف، مؤثر اور کم کاربن بنانا اس کی حکمت عملی کا بنیادی محور ہے۔
اس حکمت عملی کے تحت قابل تجدید توانائی، بیٹری اسٹوریج اور ریورس اوسموسس کے ذریعے پانی صاف کرنے کی صلاحیت میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا جا رہا ہے، جس سے گیس سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس پر انحصار بتدریج کم ہوگا۔
اس موقع پر ای ڈبلیو ای سی کے چیف اثاثہ جات آفیسر محمد المرزوقی نے کہا کہ کمپنی کی منصوبہ بندی اس انداز میں کی گئی ہے کہ اقتصادی ترقی کے لیے ضروری پانی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع کے ساتھ مجموعی کاربن اخراج میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکے۔
قابل تجدید توانائی کی توسیع اس تبدیلی کا اہم حصہ ہے۔ کمپنی ابوظہبی میں شمسی توانائی کی صلاحیت 2030 تک 14 گیگاواٹ اور 2035 تک 35 گیگاواٹ سے زائد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جس کے ساتھ 15 گیگاواٹ تک بیٹری اسٹوریج کی صلاحیت بھی شامل کی جائے گی۔
اس اضافی صاف توانائی اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کے نظام میں شامل ہونے سے گیس پر مبنی بجلی کی پیداوار کا حصہ بتدریج کم ہونے کی توقع ہے، اگرچہ یہ پلانٹس قابل تجدید ذرائع کی غیر مستقل پیداوار میں توازن برقرار رکھنے کے لیے ضروری لچک فراہم کرتے رہیں گے۔
پانی کے شعبے میں بھی اسی سمت پیش رفت جاری ہے، جہاں ریورس اوسموسس ٹیکنالوجی کو تیزی سے وسعت دی جا رہی ہے۔ توقع ہے کہ 2035 تک ای ڈبلیو ای سی کی مجموعی پانی کی پیداوار میں اس ٹیکنالوجی کا حصہ 95 فیصد سے تجاوز کر جائے گا، جس سے اخراج میں مزید کمی آئے گی۔
کمپنی کے مطابق یہ اقدامات ابوظبی محکمہ توانائی کے 2035 کلین انرجی اسٹریٹجک ٹارگٹ اور متحدہ عرب امارات کی نیٹ زیرو 2050 حکمت عملی کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ بڑھتی مانگ پوری کرنے کے ساتھ پانی اور توانائی کے تحفظ کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔