دبئی، 22 ستمبر، 2026 (وام) -- بلاک راک کے الیڈن کی نئی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات مشرق وسطیٰ میں نجی سرمایہ کاری کی سب سے نمایاں منڈی بن کر ابھرا ہے، جبکہ خطہ عالمی نجی منڈیوں کے لیے سرمایہ فراہم کرنے والے مرکز سے تیزی سے خود نجی سرمایہ کاری کی اہم منزل میں تبدیل ہو رہا ہے۔
'مارکیٹ ایوولوشن: دی مڈل ایسٹ' کے عنوان سے جاری رپورٹ میں امارات کی پوزیشن کو اقتصادی تبدیلی کے پروگراموں، بنیادی ڈھانچے میں بڑھتی سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی بڑھتی صلاحیت سے منسلک کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط ہو رہا ہے اور سرمایہ بیرونِ ملک کے ساتھ مقامی منڈیوں میں بھی زیادہ تیزی سے لگایا جا رہا ہے، خصوصاً ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نئے مواقع سامنے آ رہے ہیں۔
پریقن کے اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ کے زیرِ جائزہ خودمختار دولت فنڈز اپنی سرمایہ کاری کا 43 فیصد نجی سرمایہ میں مختص کرتے ہیں، جبکہ دنیا کے دیگر خطوں میں ان کے ہم منصب اداروں کے لیے یہ شرح 35 فیصد ہے۔
نجی ایکویٹی میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی علاقائی دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے محدود شراکت دار سرمایہ کاروں میں نجی ایکویٹی مینڈیٹس کے بارے میں مثبت رائے رکھنے یا ان پر غور کرنے والوں کا تناسب 2019 کے 70 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 83 فیصد ہوگیا۔
اس کے مقابلے میں دنیا کے دیگر خطوں میں یہی شرح اسی مدت کے دوران صرف 60 فیصد سے 61 فیصد تک بڑھی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں نجی سرمایہ کاری کے حوالے سے اعتماد عالمی رجحان سے کہیں زیادہ تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے۔
بلاک راک میں مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، افریقہ اور بھارت کے لیے الیڈن بزنس ڈیولپمنٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سربراہ ایمن ضیف نے کہا کہ خطے میں سرمایہ کاری کے رجحان میں بنیادی تبدیلی آ رہی ہے، جہاں سرمایہ اب تیزی سے مقامی سطح پر لگایا جا رہا ہے اور اس کے گرد ادارہ جاتی و سرمایہ کاری کا مکمل نظام بھی تشکیل پا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی کے اگلے مرحلے میں خودمختار دولت فنڈز، فیملی آفسز اور عالمی سرمایہ کاری مینیجرز کے درمیان تعاون، ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال اور ڈیٹا پر مبنی سرمایہ کاری کے طریقوں کا کردار مزید اہم ہوگا۔
بلاک راک انویسٹمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے ممالک 2030 تک تقریباً 2.1 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، جس کا بڑا حصہ معیشتوں کو تجارت، شپنگ اور توانائی کی منڈیوں میں ممکنہ رکاوٹوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنانے پر مرکوز ہوگا۔
بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بھی مستقبل کی سرمایہ کاری کے اہم شعبوں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ علاقائی سرمایہ کار توانائی، یوٹیلیٹیز، ٹرانسپورٹ، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو ترقی کے اہم محرکات قرار دے رہے ہیں۔
فیملی آفسز کا کردار بھی خطے کے نجی سرمایہ کاری نظام میں بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2026 میں مشرق وسطیٰ کے فعال نجی سرمایہ کاروں میں ان کا حصہ تقریباً 50 فیصد ہے، جبکہ نجی ایکویٹی ان کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ترجیح بنی ہوئی ہے۔
خلیجی فیملی آفسز کی آئندہ سرمایہ کاری ترجیحات میں نجی ایکویٹی کا حصہ 27 فیصد، ریئل اسٹیٹ 19 فیصد، نجی قرض 16 فیصد، بنیادی ڈھانچہ 14 فیصد، ہیج فنڈز 13 فیصد اور قدرتی وسائل 11 فیصد ہیں۔
رپورٹ میں وینچر کیپیٹل کو بھی نسبتاً مضبوط قرار دیا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں 2021 سے 2025 کے دوران وینچر کیپیٹل سودوں کی سالانہ اوسط مالیت 2.4 ارب ڈالر رہی، جبکہ اسی عرصے میں امریکا اور یورپ کو نسبتاً مشکل فنڈنگ ماحول کا سامنا رہا۔