بحرین نے صنعتی شراکت داری برائے پائیدار اقتصادی ترقی میں شمولیت اختیار کرلی

بحرین نے صنعتی شراکت داری برائے پائیدار اقتصادی ترقی میں شمولیت اختیار کرلی

قاہرہ، 25 جولائی، 2022 (وام) ۔۔ صنعتی شراکت داری برائے پائیدار اقتصادی ترقی کی دوسری اعلیٰ کمیٹی کا اجلاس قاہرہ میں مصر کے وزیر تجارت و صنعت ڈاکٹر نیوین گیما، متحدہ عرب امارات کے صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کے وزیر ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر اور اردن کے وزیر صنعت، تجارت اور سپلائی یوسف الشمالی کی موجودگی میں شروع ہوا۔ اجلاس میں اعلیٰ کمیٹی نے بحرین کا کمیٹی کے نئے رکن کے طور پر اعلان کرتے ہوئے خیرمقدم کیا اور بحرین کے وزیر صنعت و تجارت زید بن راشد الزیانی کی اس شراکت داری میں نمائندگی کو خوش آمدید کہا۔ خام ایلومینیم اور لوہے کا ایک بڑا پروڈیوسر بحرین شراکت داری کی کل صنعتی مینوفیکچرنگ ویلیو کو 106.26 ارب ڈالر سے بڑھا کر 112.5 ارب ڈالر کر دے گا۔ بحرین 9,500 سے زائد کمپنیوں اور 55,000 ملازمین اور صنعتی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری میں 4.3 ارب ڈالر کے ساتھ ایک مضبوط صنعتی شعبے کا حامل ہے۔ شراکت داری کا مقصد بڑے مشترکہ صنعتی منصوبوں کا قیام، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، اقتصادی پیداوار میں اضافہ، شراکت دار ممالک کی معیشتوں کو متنوع بنانا، صنعتی پیداوار کو سپورٹ کرنا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ اعلیٰ کمیٹی نے ایگزیکٹو کمیٹی کی طرف سے دی گئی ایک پریزنٹیشن کا بھی جائزہ لیا جو اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری، انڈسٹری گروتھ، وزارت صنعت اور جدید ٹیکنالوجی عبداللہ الشمسی، اردن کی وزارت صنعت و رسد کے سیکرٹری جنرل دانا الزوبی اورمصری وزیر صنعت کے مشیر اور ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ حاتم الاشری نے پیش کی۔ اسکے نتیجے میں 3.4 ارب ڈالر کے 12 منصوبوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے اور یہ فزیبلٹی اسٹڈیز کے مرحلے میں داخل ہوں گے۔ مجموعی طور پر ایگزیکٹو کمیٹی کو 87 صنعتی منصوبوں کی تجاویز موصول ہوئیں جن میں کھاد، زراعت اور خوراک پر توجہ دی گئی۔ اگلے مرحلے میں شراکت داری دھاتوں، کیمیکلز، پلاسٹک، ٹیکسٹائل اور کپڑے کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرے گی۔ وفد میں مصر میں متحدہ عرب امارات کی سفیر مریم الکعبی، مصر میں اردن کے سفیر امجد العدیلہ اور مصر میں بحرین کے سفیر ڈاکٹر خالد فہد علاوی کے علاوہ بحرین میں صنعت و تجارت کی وزارت میں صنعتی ترقی کے اسسٹنٹ انڈرسیکرٹری ہشام بن محمد الجودر اور ADQ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او محمد حسن السویدی بھی شامل ہیں۔ اپنے تبصروں میں ڈاکٹر نیوین گیما نے عالمی بحرانوں کے معاشی نتائج سے نمٹنے کے لیے صنعتی شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا اور عرب دنیا کے لیے پائیدار ترقی میں نجی شعبے کی شمولیت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری قدر اور سپلائی چین کو یقینی بنانے، صنعتی خود کفالت تک پہنچنے اور مزید ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہم اس شراکت داری میں شامل ہونے کے لیے بحرین کا خیرمقدم کرتے ہیں جس سے بحرین کو ان چار ممالک کی صنعتی صلاحیتوں سےزیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے فائدہ اٹھانے کے لیے شراکت دار سائنس اور ٹیکنالوجی کی مہارت کا تبادلہ کریں گے، صنعتی شراکت داری قائم کریں گے اور کثیر جہتی تجارت کو فروغ دینے کے لیے شراکت داروں کی منڈیوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ مصر کی حکومت اس شراکت داری کی حمایت کرنے اور اس کی راہ ہموار کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنے اہداف حاصل کر سکے۔ اردن کے وزیر صنعت، تجارت اور سپلائی یوسف الشمالی نے کہاکہ یہ اجلاس گزشتہ دو دنوں میں منعقدہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاسوں کا تسلسل ہے اور دواسازی، زراعت، کھاد اور خوراک کے شعبوں کے ماہرین کی ہفتوں کی طویل سیکٹرل ورکشاپس کا اختتام ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پیشرفت ابوظہبی میں شراکت داری کے آغاز کے دو ماہ بعد حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اردن مشترکہ عرب کام کے تمام پہلوؤں کی حمایت کا خواہاں ہے جیسا کہ شاہ عبداللہ دوم کی ہدایت ہے اور یہ اجتماع یہ ظاہر کرتا ہے کہ تینوں ممالک کے رہنما ایک جامع اقتصادی منصوبے کی تشکیل کی کوششوں میں شامل ہونے کے بارے میں ایک مشترکہ نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اجلاس نے ہماری قوموں کو پابند کرنے والے سیاسی اور اقتصادی تعلقات پر روشنی ڈالی اور مشترکہ کارروائی اور ٹھوس اثرات کے ساتھ موثر اقتصادی انضمام کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ شراکت داری میں بحرین کی شمولیت اس اقدام کو فروغ دے گی اور مطلوبہ اقتصادی انضمام کے حصول کی رفتار کو تیز کرے گی۔ ڈاکٹر سلطان الجابر نے شراکت داری کے لیے متحدہ عرب امارات کے عزم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کا وژن تعاون، ہم آہنگی اور انضمام کے کردار پر زور دیتا ہے جو اقتصادی ترقی کے لیے کلیدی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد شراکت داری کی مشترکہ طاقتوں، مسابقتی فوائد اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے تاکہ پائیدار اقتصادی ترقی کی مضبوط بنیاد کی تعمیر میں مدد مل سکے۔ انہون نے کہا کہ آج ہم شراکت داری میں ایک اہم اور متحرک اضافے کے طور پر بحرین کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ بحرین کا صنعتی شعبہ پائیدار اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہون نے کہا کہ میں اعلیٰ کمیٹی کے اس دوسرے اجلاس کی میزبانی کرنے پر مصر کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مشترکہ منصوبوں اور پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں، سرکاری ایجنسیوں اور معاون اداروں کی جانب سے درکار اگلے اقدامات کا جائزہ لینا ہےتاکہ منصوبوں کی فزیبلٹی کو یقینی بناکرتیزی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ میں کمپنیوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ شرکت کرنے والے ممالک میں سے ہر ایک میں دستیاب شراکت داری کے مسابقتی فوائد اور مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے منصوبوں کی کامیابی کے امکانات کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے اپنی فزیبلٹی اسٹڈیز کریں۔ انکا کہنا تھا کہ کامیاب ہونے کے لیے اور ممکنہ رکاوٹوں پر قابو پانے میں کمپنیوں کی مدد کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ آپ یقین رکھیں ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مدد فراہم کریں گے کہ صنعتی کمپنیاں کامیاب منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے کے لیے پر اعتماد ہو سکیں۔ انکا کہنا تھا کہ شراکت داری زیادہ سے زیادہ پائیدار معاشی اور سماجی فوائد حاصل کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے صنعتی شراکت داری کسی بھی فریق کے لیے کھلی ہے جو صنعتی شعبے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا، تمام صنعتوں میں انضمام کو فروغ دینا اور متحدہ عرب امارات، مصر، اردن اور اب بحرین کی جانب سے پیش کردہ مسابقتی فوائد سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مشترکہ کوششیں اور ٹیم ورک لاگت، سپلائی چین کو محفوظ بنا کر، مزید ملازمتیں پیدا کر کے، خود کفالت کو بڑھا کر، مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کر کے اور جدید ترین ٹیکنالوجی لاگو کر کے اس شراکت داری میں شامل کمپنیوں اور ممالک کی ترقی میں اضافہ کرے گا۔ زید الزیانی نے بحرین کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ کو مبارکباد پیش کی اور شراکت داری میں بحرین شرکت پر ان کی تعریف کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ شراکت داری پائیدار صنعتی ترقی کے حصول کے لیے عرب ممالک اور دنیا کے درمیان صنعتی انضمام کو فروغ دینے کے لیے مضبوط ارادے کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ کے وژن اور خواہشات کے مطابق ہے تاکہ اقتصادی ترقی کو بڑھایا جا سکے اور نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بحرین نے گزشتہ دہائیوں کے دوران صنعتی شعبے میں مسلسل کامیابیاں اور ترقی حاصل کی ہے۔ یہ حکومت کی طرف سے 1960 کی دہائی سے اپنائی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس کا مقصد تیل اور قدرتی گیس پر انحصار کو کم کرنا اور صنعتی شعبے کو متنوع بنانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نئے صنعتی زونز کے قیام اور صنعتی منصوبوں کی حوصلہ افزائی اور ضروری انفراسٹرکچر فراہم کر کے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے علاوہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت نے 30 دسمبر 2021 کو صنعتی شعبے کی حکمت عملی (2022 سے2026) شروع کی جو کہ وبائی امراض کے بعد کی اقتصادی بحالی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ حکمت عملی کا مقصد جی ڈی پی میں صنعتی شعبے کے شراکت کو بڑھانا،برآمدات میں اضافہ اور شہریوں کے لیے ملازمتیں فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمت عملی چوتھے صنعتی انقلاب کو اپنانے، موثر ماحولیاتی اور سماجی نظم و نسق کی پالیسیوں کے ساتھ ایک سرکلر کاربن اکانومی کے تصور کو نافذ کرنے، تکنیکی انفراسٹرکچر اور مینوفیکچرنگ آٹومیشن میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، اور صنعتی پیداوار میں اضافے پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی کے ذریعے ہم اس شراکت داری میں شامل شعبوں سے متعلقہ متعدد صنعتوں کو ہدف بناتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایلومینیم اور پیٹرو کیمیکل کے شعبوں میں صنعتوں کے علاوہ قابل تجدید توانائی سمیت صنعتوں کے لیے ترقی اور خوشحالی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے صنعتی شراکت داری کی اعلیٰ کمیٹی کے دوسرے اجلاس نے کمیٹی کے پہلے اجلاس کے منٹس کے ساتھ شراکت داری کی شمولیت کی ہدایت کی منظوری دی۔ اجلاس میں زراعت، خوراک، کھاد، فارماسیوٹیکل، ٹیکسٹائل اور کپڑے اور دھاتوں کے شعبوں پر بھی رپورٹس پیش کی گئیں جبکہ صنعتی کمپنیوں کے سی ای اوز نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395303069051