تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں عالمی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے انوسٹوپیا یورپ کا میلان میں انعقاد

تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں عالمی سرمایہ کاری کو متحرک  کرنے کے لیے انوسٹوپیا یورپ کا میلان میں انعقاد

میلان، 21 مئی، 2023 (وام) ۔۔ عالمی سرمایہ کاری سمٹ، انوسٹوپیا کا 2023 میں یورپ میں پہلے ایونٹ- انوسٹوپیا یورپ کااٹلی کے کاروباری دارالحکومت میلان میں انعقاد کیا گیا ، جس میں 350 سے زائد رہنماؤں،تاجروں، متحدہ عرب امارات، اٹلی اور یورپی سرمایہ کاروں، کاروباری افراد اور ماہرین اقتصادیات نے شرکت کی۔

اس تقریب کا مقصد تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں، خاص طور پر نئی معیشت، سرکلر اکانومی، فیملی بزنسز اور تخلیقی صنعتوں میں عالمی سرمایہ کاری کو تیز کرنا اور عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات کے مستقبل کو تلاش کرنا تھا۔

انوسٹوپیا یورپ کا مقصد اطالوی شہر میلان سے متحدہ عرب امارات اور یورپ کے درمیان اقتصادی اور سرمایہ کاری تعاون کو مضبوط کرنا ، ایک نیا اور مستقبل کی سرمایہ کاری کا وژن تشکیل دینا ہے جو یہ پائیدار ترقی کی کوششوں اور عالمی اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے درکار عالمی اقتصادی پالیسیوں کی ترقی میں معاونت کرے گا۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر اقتصادیات عبداللہ بن طوق المری نے افتتاحی سیشن کے دوران ٹیلی وائزڈ خطاب میں اس بات کی تصدیق کی کہ میلان کو سب سے زیادہ متحرک عالمی مالیاتی دارالحکومتوں میں سے ایک اور یورپی براعظم کے لیے ایک اہم تجارتی گیٹ وے ہونے کی وجہ سے انویسٹوپیا یورپ کے لیے منتخب کیا گیا ہے ۔

یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات کی دوست اٹلی کے ساتھ مشترکہ مفاد کے تمام شعبوں میں اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنے کی خواہش کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات اگلے مرحلے کے دوران دوطرفہ سرمایہ کاری تعاون کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انوسٹوپیا یورپ کے انعقاد سے مستقبل پر مبنی عالمی سرمایہ کاری کمیونٹی کی تشکیل میں مدد ملے گی۔ یہ مکالمہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں کی توسیع پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے عالمی معیشت کے لیے مزید لچکدار، جامع اور پائیدار پیرامیٹرز کی نشاندہی کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ ان میں تجارت، سرکلر اکانومی، خاندانی کاروبار، صنعتیں، تخلیقی سرگرمیاں، لگژری سامان اور ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

وزیر اقتصادیات نے کہا کہ انوسٹوپیا مختلف نئے اقتصادی شعبوں میں مواقع پیدا کرنے اور عالمی کاروباری برادریوں اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ۔

بن طوق نے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاری کا عالمی پلیٹ فارم انوسٹوپیا علاقائی اور عالمی سطح پر مسلسل مستحکم ہو رہا ہے۔ اسے عالمی سرمایہ کاری کے مواقع کو بہتر بنانے اور پائیدار اقتصادی اور سماجی ترقی کے حصول کے لیے درکار نئی تجارتی اور سرمایہ کاری کی شراکتیں قائم کرنے میں اس کے کلیدی کردار سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ستمبر 2021 میں متحدہ عرب امارات حکومت کی جانب سے آغاز کے بعد سے، انوسٹوپیا کاروبار اور سرمایہ کاری کی کمیونٹیز کو متحرک کر رہا ہے۔ یہ حکومتی رہنماؤں، تاجروں، سرمایہ کاروں، کاروباری افراد، سرمایہ کاری فنڈز کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے درمیان بات چیت اور روابط کو آسان بنانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

بن طوق نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے علم اور اختراع پر مبنی ایک نئے معاشی ماڈل کی طرف تبدیلی کو تیز کرنے کے لیے دانشمندانہ قیادت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے قومی حکمت عملیوں اور اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان کامیابیوں نے قومی معیشت کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے جیسا کہ سال 2022 کے معاشی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے۔ سب سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہماری قومی جی ڈی پی میں غیر معمولی 7.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ 50 کے اصولوں اور 'وی دی یو اے ای 2031' ویژن کے مطابق تاریخ میں پہلی بار غیر تیل کی غیر ملکی تجارت22کھرب درہم سے تجاوز کر گئی ہے۔

انہوں نے بہت سے اقتصادی شعبوں میں مستقبل کی پالیسیوں اور پروگراموں کو تیار کرنے میں متحدہ عرب امارات کی کامیابی کے بارے میں بھی بتایا، جن میں یو اے ای سرکلر اکانومی پالیسی 2031 کا اجراء اور صنعتی املاک کے تحفظ، کاپی رائٹ اور ہمسایہ ممالک کے حقوق اور ٹریڈ مارک کی ترقی کے بارے میں وفاقی حکم نامے کا نفاذشامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ خاندانی کاروبار متحدہ عرب امارات اور دنیا بھر کی معیشتوں میں ترقی کا ایک اہم ڈرائیور ہیں۔ وہ کئی شعبوں میں ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کے علاوہ، پائیدار اقتصادی ترقی میں معاونت اور سرمایہ کاری کی کشش بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ خاندانی کاروبار عالمی نجی شعبے کا 70 فیصد، کل افرادی قوت کا 60 فیصد، اور عالمی جی ڈی پی کا 70 فیصد ہیں، متحدہ عرب امارات نے خاندانی کاروبار کی حکمرانی پر پہلی جامع اور منفرد قانون سازی کی ہے، اور ملک میں خاندانی کاروبار کی ترقی اور خوشحالی کے لیے 'ثبات' پروگرام شروع کیا۔ جس نے 2030 تک 200 خاندانی کاروباروں کو بڑی کمپنیوں میں تبدیل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جس کی مارکیٹ ویلیو تقریباً150ارب درہم اور اور سالانہ آمدنی 18 ارب درہم سے زیادہ ہوگی۔


مزید برآں، متحدہ عرب امارات کے وزیر اقتصادیات نے انویسٹوپیا یورپ کے تمام شرکاء سے متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کاری کے امید افزا مواقع تلاش کرنے اور ملک کے کاروبار اور سرمایہ کاری کے ماحول سے پیش کردہ فوائد اور امکانات سے فائدہ اٹھانے کی اپیل کی۔

انوسٹوپیا یورپ میں 'مواقع اور عالمی چیلنجز کے درمیان سرمایہ کاری' کے عنوان سے ایک کلیدی سیشن کا انعقاد کیا گیا ، جس میں وزارت اقتصادیات کے انڈر سیکریٹری، عبداللہ احمد الصالح،اٹلی کے وزیر اقتصادیات اور مالیات جیان کارلوگوئیر جیٹی، وزیر سیاحت ڈینیلا سانتانچ ،انٹیگرل ہیومن ڈویلپمنٹ کو فروغ دینے کے لیے ڈیکاسٹری کے سیکریٹری اور ویٹیکن کوویڈ 19 کمیشن کے مندوب الیسندرا سمیریلی نے شرکت کی۔ساتھ ساتھ مستقبل کے اقتصادی شعبوں کی ترقی کے لیے سب سے نمایاں چیلنجز اور مستقبل کی سمتوں پر مشترکہ کوششوں کے استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اطالوی وزیر سیاحت نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور اٹلی کے درمیان مختلف شعبوں بالخصوص سیاحت میں مضبوط اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں جو اس اہم شعبے میں موجودہ اور مستقبل کے تعاون کے امکانات کو بڑھانے میں معاون ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انوسٹوپیا یورپ سیاحت کے شعبے میں مشترکہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور راغب کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، جو متحدہ عرب امارات کے ساتھ بہت سی شراکتوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ دریں اثنا، ڈینیلا سانتانچ نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار سیاحت اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، جو مزید ملازمتیں پیدا کرنے اور تجارت کو فروغ دینے میں معاون ہے۔
الیسنڈرا سمریلی نے کہا کہ انوسٹوپیا یورپ کا مقصد سب کے لیے اقتصادی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی انضمام کو فروغ دینا ہے، جس کے لیے صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، سرکلر اکانومی، کاربن، اور ٹیکنالوجی جیسے مختلف اہم شعبوں میں شراکت داری کی ضرورت ہے تاکہ پوری انسانیت کو فائدہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جو کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور ماحول کو محفوظ رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کاپ28 آب و ہوا کے وعدوں پر عمل درآمد اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے آغاز کے لیے یرس معاہدے پر عالمی تعاون کو آگے بڑھائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صحت کی دیکھ بھال، ماحولیات اور دیگر بااثر شعبوں میں وینچر کیپیٹل کے ذریعے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔

اس تقریب میں چار پینل مباحثوں کابھی انعقاد کیا گیا ، جس میں 'فیملی بزنسز کے نئے ماڈل' پر ایک سیشن بھی شامل ہے، جس میں خاندانی کاروبار میں سرمایہ کاری کے کلیدی مواقع اور ان کی ترقی اور پائیداری کو سپورٹ کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کی لوکلائزیشن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کی ترقی کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ آنے والی نسلوں میں ان کی پائیداری اور تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسرا سیشن ’’لگژری میں سرمایہ کاری کے نئے رجحانات‘‘ کے عنوان سے تھا جس میں صنعتوں اور فلاحی سرگرمیوں اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں ترقی کے مواقع میں نمایاں تبدیلیوں اور تیز رفتار ترقی کے پیچھے وجوہات کا جائزہ لیا گیا۔

تیسرا سیشن ’ذمہ داری اور پائیداری کے درمیان ترقی کے لیے سرمایہ کاری‘ کے عنوان سے تھا جس میں عالمی مالیاتی نظام کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے مختلف اہم شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس کے علاوہ چوتھے اور آخری سیشن کا عنوان 'عالمی تجارت: کھیل کے نئے اصول' عالمی تجارتی تحریک میں تبدیلیوں پر مرکوز تھا۔

اٹلی جانے والے متحدہ عرب امارات کے وفد میں پبلک پرائیویٹ سیکٹرز سے تعلق رکھنے والے 50 ممبران شامل ہیں جن میں لولو فنانشل ہولڈنگز کے منیجنگ ڈائریکٹر ادیب احمد، شرف گروپ کے ڈائریکٹر جنرل صلاح شرف، لبرٹی اسٹیل کے سی ای او سنجیو گپتا ،شارجہ انویسٹمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی "شروق" کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر أحمد قصير،ریجنل انویسٹمنٹ پروموشن مینیجر (انویسٹ ان شارجہ) حمد عبید الشامسی، لائفکو گروپ کے مینیجنگ پارٹنر شادی حسن،مبادلہ میں ڈسرپٹو سرمایہ کاری کے سی ای او ہانی برہوش،لولو فنانشل ہولڈنگز میں اسٹریٹجک بزنس اور مارکیٹنگ کے سربراہ اگاتےجانسن، الیوسف کے چیف آپریٹنگ آفیسریوسف احمد الیوسف،کے ایچ کے اینڈ پارٹنرز کے شریک بانی اور منیجنگ ڈائریکٹرحسن کریمی اوریو اے ای انٹرنیشنل انویسٹر کونسل کے سیکرٹری جنرل جمال بن سیف الجروان شامل تھے۔

انوسٹوپیا یورپ ،انوسٹوپیا کے تحت عالمی مذاکرات اور مباحثوں کی سیریز کا آٹھواں سنگ میل اور یورپ میں اس طرح کا پہلا ایونٹ ہے۔ یہ مذاکرات سات ادوار میں منعقد ہوئے جن میں نیویارک، جنیوا، نئی دہلی، ممبئی، قاہرہ، رباط اور ہوانا سمیت نمایاں عالمی منڈیاں شامل ہیں۔ انوسٹوپیا سیشنز عالمی اقتصادی پالیسیوں کی تیاری اور نئے اقتصادی شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں متحدہ عرب امارات کے تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔


ترجمہ۔تنویرملک
https://wam.ae/en/details/1395303160218